لکھا کیسے جائے؟

مضمون ان ہدایات کے مطابق بھیجیں تاکہ آپ کا بھیجا گیا مضمون جلدازجلد پراسیس کیا جا سکے۔ ان ہدایات کے آخر میں ای میل ایڈریس دیا گیا ہے جس پر مضمون بھیجا جانا چاہیے۔

مضمون صرف ایک مرتبہ ہی بھیجیں اور بھیجنے سے پہلے کئی مرتبہ خود پڑھ کر اسے حتمی کریں۔

مندرجہ ذیل شرائط کی فہرست کے مطابق معلومات بھیجیں۔ تمام معلومات ایک ہی ای میل میں ہونی چاہئیں تاکہ اسے اشاعت کے لیے نشان زد کیا جا سکے۔

شرائط کی فہرست

اگر آپ کا کوئی مضمون ٹوڈیزنیوز پر پہلے شائع ہو چکا ہے تو مضمون کا یا ٹوڈیزنیوز پر اپنے پروفائل کا لنک بھیجیں۔ ای میل میں اپنا نام واضح طور پر لکھیں اور بعینہ وہی نام لکھیں جس سے آپ کا گزشتہ مضمون شائع ہوا تھا۔

اگر آپ کا ٹوڈیزنیوز پر پہلے کوئی مضمون شائع نہیں ہوا ہے تو پھر مندرجہ ذیل معلومات بھیجیں

مضمون (ای میل / مائیکروسافٹ ورڈ فارمیٹ میں): ای میل کے اندر لکھا گیا مضمون ہمارے لیے سب سے آسان ہوتا ہے۔ آپ اپنے کمپیوٹر یا موبائل فون پر ای میل میں ہی مضمون لکھیں اور بھیج دیں۔ ورڈ یا ان پیج میں مضمون لکھنے کی صورت میں مضمون کا کچھ تعارف ای میل کے متن میں شامل ہونا چاہیے تاکہ اٹیچمنٹ کھولے بغیر ہمیں پتہ چل سکے کہ مضمون کس موضوع پر ہے اور اس کا معیار کیا ہے۔ ان پیج کے ٹیکسٹ کو آپ اس لنک پر کلک کر کے یونیکوڈ ٹیکس میں کنورٹ کر سکتے ہیں، جو آپ ہمیں ای میل میں کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں۔
آپ کی تصویر
شناختی کارڈ یا ڈرائیونگ لائسنس یا اسٹوڈنٹ کارڈ یا جاب کارڈ وغیرہ کی تصویر
فیس بک پروفائل اور ٹوئیٹر پروفائل کا لنک (برائے رابطہ)
فون نمبر (برائے رابطہ)

اشاعت کب ہو گی؟

مضمون بھیجنے کے بعد اس کی اشاعت کے لئے انتظامیہ کو فوراً میسینجر یا فون پر پیغامات بھیجنے سے گریز کریں۔ کام کے اوقات میں ہی ای میل دیکھی جاتی ہے اور آپ کے فون کرنے یا پیغام بھیجنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اگر مضمون ایک ہفتے تک شائع نہیں ہوا تو اس صورت میں ای میل کے زریعے ہی رابطہ کریں۔

ادارتی ٹیم باری آنے پر مضمون کا جائزہ لے لے گی اور اگر مضمون معیاری ہوا اور ہمارے پاس اسے شائع کرنے کی گنجائش ہوئی تو اسے شائع کر دیا جائے گا۔ ٹوڈیزنیوز ایسے مضامین شائع کرنے کو ترجیح دیتا ہے جو خاص طور پر صرف ٹوڈیزنیوز کے لئے ہی لکھے گئے ہوں اور کسی دوسری جگہ اشاعت کے لئے نہ بھیجے گئے ہوں۔ ضروری نہیں ہے کہ آپ کا بھیجا ہوا مضمون لازمی طور پر شائع کیا جائے۔ ادارتی ٹیم کسی بھی مضمون کو مسترد یا قبول کر سکتی ہے، اور کسی شائع شدہ مضمون کو ہٹا سکتی ہے۔ ادارتی ٹیم اپنے فیصلے کی وجوہات بیان کرنے کی پابند نہیں ہے۔

مضمون عموماً دو یا زیادہ سے زیادہ تین دن میں شائع کر دیا جاتا ہے۔ ہماری کوشش یہ ہوتی ہے کہ مضمون موصول ہوتے ہی جلد از جلد شائع کیا جائے۔ لیکن پہلے سے آئے ہوئے دیگر مضامین اور دستیاب عملے پر کام کے لوڈ وغیرہ جیسی وجوہات کی بنا پر تاخیر ہو سکتی ہے۔

کمپوزنگ کیسے کی جائے؟

مضمون ٹائپ کرتے وقت اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ ہر لفظ کے بعد ایک اسپیس ڈال رہے ہیں۔ ہر جملے کے اختتام پر فل اسٹاپ ضرور ڈالیں۔ ایک سے زیادہ رموز اوقاف استعمال مت کریں، ایک ہی کوما، فل اسٹاپ یا دیگر علامت لکھیں اور ،،، یا ۔۔۔۔ یا ؟؟؟ یا !!!! وغیرہ لکھنے سے گریز کریں۔

خاص طور پر “کی” اور “کے” کے بعد ایک اسپیس ڈالنے پر توجہ کریں۔ آئینگے ، آئینگی ، وغیرہ کی بجائے ’آئیں گے ‘ اور ’آئیں گی ‘ لکھنے کی کوشش فرمائیں۔ اسی طرح جائینگے ،جائینگی ، وغیرہ کی بجائے ’جائیں گے ‘ اور ’جائیں گی‘ لکھا جائے تو بہتر ہے۔ انکی، جسکی، انکو، آپکی ، آپکے ، انکے اور جسکے کی بجائے ان کی، جس کی، ان کو، آپ کی ، آپ کے ، ان کے اور جس کے لکھنے کی کوشش کیجئے۔

انگریزی کے حرف S کے الف کے آواز والے الفاظ کو الف سے ہی شروع کیا جائے۔ جیسا کے اسکول، اسپیس، اسپورٹس، اسمارٹ وغیرہ

جہاں اردو لفظ ممکن ہو، وہاں انگریزی لفظ سے گریز فرمائیں۔ اگر انگریزی لفظ بھی ہے تو اسے اردو املا میں لکھنے کو ترجیح دیں۔

اپنا مضمون بھیجنے سے پہلے کم از کم ایک مرتبہ ضرور پڑھیں۔ کمپوزنگ کی بہت سی غلطیاں آپ خود نکال سکتے ہیں۔ جس تحریر میں کم غلطیاں ہوں، اس پر ایڈیٹر کی کم محنت لگتی ہے، اور وہ جلد شائع ہو سکتی ہے۔

تحریر کی طوالت 500 سے 1000 الفاظ کے درمیان ہونی چاہیے۔ بعض صورتوں میں استثنا دیا جا سکتا ہے۔

یاد رہے کہ مضمون کا عنوان لگانا، تحریر میں موجود غلطیاں درست کرنا، غیر مہذب یا غیر اخلاقی مواد کو حذف کرنا، ایسا مواد جو کہ ادارتی پالیسی کے خلاف ہو، اسے حذف یا تبدیل کرنا اور بات کو واضح کرنے کے لئے متن میں تبدیلی کرنا، کسی بھی ایڈیٹر کا اختیار ہوتا ہے۔ اگر آپ ایڈیٹر کے اس اختیار سے متفق نہیں ہیں تو، براہ کرم اپنا مضمون کسی اور جگہ شائع کرنے کے لئے بھیجیں، ہم اسے شائع کرنے سے قاصر ہیں۔

تحریر اور موضوعات

 مضمون لکھنا ایک بڑی ذمہ داری ہے اور مضمون بھیجتے ہوئے آپ اس بات کے بارے میں سوچ لیں کہ آپ کو اس مضمون پر آنے والے اچھے یا برے عوامی ری ایکشن یا قانونی کارروائی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لئے خوب سوچ سمجھ کر مضمون لکھیں۔ ٹوڈیزنیوز کی ادارتی ٹیم ایڈیٹنگ کرتے ہوئے حتی المقدور کوشش کرتی ہے کہ مضمون میں موجود ایسا مواد ٹھیک کر دیا جائے جو پریشان کن ثابت ہو سکتا ہے۔ مضمون بھیجنے سے پہلے خوب غور کر لیں کیونکہ عام حالات میں مضمون شائع ہونے کے بعد سائٹ سے ہٹایا نہیں جائے گا۔

اگر آپ کسی دوسرے مصنف کے مضمون کا جواب لکھ رہے ہیں، یا حالات حاضرہ پر عمومی تبصرہ کر رہے ہیں تو اس فرد کو نشانہ بنانے کی بجائے اس کے موقف پر بات کریں۔ مضمون میں اگر کسی کی کردار کشی کا پہلو ہو تو اس کے شائع ہونے کا امکان بہت کم ہے۔

مضمون میں اگر آپ کسی واقعے، فرد یا جگہ وغیرہ کا ذکر کر رہے ہیں تو پہلے کسی ماخذ سے اپنے بیان کی درستی کا یقین کر لیں۔

ٹوڈیزنیوز ایک رضاکارانہ بنیادوں پر چلایا جانے والا ادارہ ہے۔ یہاں نا تو اسٹاف کو کسی قسم کا معاوضہ دیا جاتا ہے اور نا ہی لکھنے والوں کو۔ اردو ڈیجیٹل پبلشنگ میں اتنی آمدنی نہیں ہے کہ ٹوڈیزنیوز جیسا ادارہ بھی کل وقتی اسٹاف رکھ کر اسے مشاہرہ ادا کر سکے اس لیے چند رضاکار اسے اپنا وقت اور محنت کسی معاوضے کے بعد دے کر چلاتے ہیں۔

ادارتی پالیسی

ٹوڈیزنیوز میں ادارتی پالیسی بالکل واضح ہے۔ دائیں اور بائیں کی کوئی قید نہیں۔ مذہبی اور غیر مذہبی نقطہ نظر پر کوئی پابندی نہیں۔ کسی سیاسی جماعت کی حمایت یا مخالفت کی بنیاد پر کوئی تحریر روکی نہیں جاتی۔ اظہار کی آزادی کا احترام کیا جاتا ہے۔ اظہا ر کی آزادی میں بنیادی مفروضہ یہی ہے کہ صحیح یا غلط ، دلیل سامنے آئے گی تو اس کے رد میں موجود دلیل کو بھی سامنے آنے کا موقع ملے گا۔ ذہانت پر صحافی کا اجارہ نہیں۔ پڑھنے والا سب سے زیادہ ذہین ہے۔ وہ پڑھے گا۔ سوچے گا اور دلیل کو قبول یا رد کرے گا۔ اگر صحافی دلیل کو روک لے گا تو پڑھنے والے کو معلومات تک رسائی کے بنیادی حق سے محروم کرے گا۔ اس میں معمولی سی شرط یہ ہے کہ صحافت میں ناشائستہ لب و لہجہ اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ کسی کو گالی نہیں دی جا سکتی۔ کسی مذہبی ، ثقافتی یا نسلی گروہ کے خلاف اشتعال نہیں پھیلایا جا سکتا۔ نفرت پھیلانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ کسی کو جرم کی ترغیب دینے کی اجازت نہیں ہوتی۔ قانون شکنی کی حمایت نہیں کی جاتی۔ کسی جرم پر اکسانا اظہار کی آزادی میں شامل نہیں ہوتا۔

ٹوڈیزنیوز کو آپ کی تحریریں شائع کر کے خوشی ہو گی کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ ٹوڈیزنیوز ایک ایسے آن لائن پلیٹ فارم کی صورت اختیار کر سکے جہاں پاکستان میں ہر طرح کی سوچ رکھنے والے کھلے دل و دماغ سے ایک پرامن اور مفید اجتماعی مکالمے کا حصہ بن سکیں۔

اپنے مضامین اس ای میل ایڈریس پر بھیجیں۔
[email protected]

Back to top button