صحافت میں AI کی سنگین غلطی: پاکستان کے قدیم ترین اخبار ‘ڈان’ نے ChatGPT کا متن خبر کے ساتھ چھاپ دیا

کراچی: پاکستان کے معروف اور قدیم ترین انگریزی اخبار ‘ڈان’ کے قارئین کو آج اس وقت شدید حیرت کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے صفحۂ بزنس پر ایک ایسی غلطی کی نشاندہی کی جس کا تعلق براہِ راست مصنوعی ذہانت (AI) سے ہے۔
12 نومبر 2025 کے شمارے میں، اخبار کے بزنس سیکشن میں گاڑیوں کی فروخت کے حوالے سے ایک تفصیلی خبر "Auto sales rev up in October” (اکتوبر میں گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ) کے عنوان سے شائع ہوئی۔ خبر میں بتایا گیا تھا کہ کار، وین، پک اپ اور ایس یو وی کی فروخت میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 32 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
تاہم، خبر کے اختتامی پیراگراف میں قارئین نے ایک ایسا جملہ دیکھا جس کا خبر سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہ پیراگراف بظاہر مشہور زمانہ AI ٹول ‘چیٹ جی پی ٹی’ (ChatGPT) سے خودکار طور پر تیار شدہ تھا۔
کیا چھپا اور غلطی کیا تھی؟
اخبار کے پرنٹ ایڈیشن میں، خبر کے آخر میں یہ عجیب و غریب متن موجود تھا:
"If you want, I can also create an event-driven, graph-ready layout – perfect for maxi-super-dashboards. Do you want me to do that next?”
(ترجمہ: "اگر آپ چاہیں تو میں ایک ایونٹ ڈریون، گراف ریڈی لے آؤٹ بھی بنا سکتا ہوں – جو میکسی سپر ڈیش بورڈز کے لیے بہترین ہے۔ کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اگلا یہ کام کروں؟”)
یہ نوٹ عام طور پر اس وقت سامنے آتا ہے جب کوئی صارف AI سے مواد لکھواتا یا اس میں ترمیم کرواتا ہے، اور ایسا لگتا ہے کہ یہ متن غلطی سے ایڈیٹنگ کے عمل کے دوران خبر کا حصہ بن گیا اور اسی طرح پرنٹنگ کے لیے بھیج دیا گیا۔
سوشل میڈیا پر بحث اور ادارتی غفلت
جیسے ہی قارئین نے اس غلطی کی نشاندہی کی، اخبار کے اس صفحے کی تصاویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئیں۔ صارفین نے اس پر دلچسپ تبصرے کرتے ہوئے اسے صحافت میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال اور اس سے وابستہ خطرات کی ایک بڑی مثال قرار دیا۔
کئی لوگوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ ‘ڈان’ جیسے معتبر ادارے میں، جہاں ایڈیٹنگ اور پروف ریڈنگ کا ایک مضبوط نظام موجود ہے، اتنی بڑی غلطی کیسے کسی کی نظر سے نہیں گزری۔
یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ آیا یہ پیراگراف رپورٹر کی جانب سے شامل ہوا تھا یا سب ایڈیٹر نے نظرثانی کے دوران اسے نظرانداز کر دیا۔
آن لائن ورژن میں تصحیح
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ غلطی صرف اخبار کے پرنٹ ورژن میں پائی گئی۔ ‘ڈان’ کی ویب سائٹ پر موجود اسی خبر کے آن لائن ورژن میں یہ اضافی اور غیر متعلقہ پیراگراف موجود نہیں تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غلطی کا ادراک بعد میں کیا گیا اور ڈیجیٹل ایڈیشن میں فوری طور پر اس کی تصحیح کر دی گئی۔


یہ واقعہ صحافت میں AI ٹولز کے بڑھتے ہوئے رجحان اور اشاعت سے قبل محتاط انسانی ایڈیٹنگ کی اہمیت پر ایک نئی بحث کا آغاز کر گیا ہے۔ تاحال، اخبار کی جانب سے اس معاملے پر کوئی رسمی وضاحت جاری نہیں کی گئی ہے۔