کووڈ 19 کے دماغ پر طویل مدتی اثرات: معمولی بیماری بھی سنگین خطرہ آکسفورڈ، این آئی ایچ اور عالمی اداروں کی تحقیقات نے "برین فوگ” اور دماغی سکڑاؤ کے اسباب سے پردہ اٹھا دیا

لندن/نیویارک: دنیا بھر میں طبی ماہرین اور سائنسدانوں نے تحقیقات کے بعد اس خدشے کی تصدیق کر دی ہے کہ کووڈ 19 کا معمولی انفیکشن بھی انسانی دماغ پر گہرے اور طویل مدتی منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک تہلکہ خیز تحقیق سے شروع ہونے والی اس کھوج نے اب ایک عالمی تحقیقی اتفاق رائے کی شکل اختیار کر لی ہے کہ "لانگ کووڈ” اور اس سے منسلک "برین فوگ” (دماغی دھند) محض تھکاوٹ یا نفسیاتی وہم نہیں، بلکہ ایک حقیقی، قابلِ پیمائش حیاتیاتی اور اعصابی (neurological) مسئلہ ہے۔
تازہ ترین مطالعات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ وائرس کے حملے کے بعد جسم کا مدافعتی ردعمل دماغ میں سوزش (inflammation) اور خون کے "مائیکرو کلاٹس” (micro-clots) پیدا کر سکتا ہے، جو دماغی خلیوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور علمی صلاحیتوں میں کمی کا باعث بنتے ہیں۔
کلیدی تحقیق: آکسفورڈ کا انکشاف
اس سلسلے کی سب سے بنیادی تحقیق آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے یوکے بائیو بینک (UK Biobank) کے ڈیٹا پر کی گئی۔ اس تحقیق میں تقریباً 800 افراد کے دماغی اسکینز کا جائزہ لیا گیا، جن میں سے نصف کووڈ 19 کا شکار ہو چکے تھے (زیادہ تر کو معمولی علامات تھیں)۔
محققین نے وباء سے پہلے اور بعد کے اسکینز کا موازنہ کرتے ہوئے یہ چونکا دینے والا انکشاف کیا کہ کووڈ 19 کا شکار ہونے والے افراد کے دماغی حجم (brain volume) میں صحت مند افراد کے مقابلے میں 0.2 فیصد سے 2 فیصد تک زیادہ سکڑاؤ (shrinkage) پایا گیا۔
یہ سکڑاؤ خاص طور پر دماغ کے ان حصوں میں دیکھا گیا جو سونگھنے کی حس (olfactory cortex) اور یادداشت و جذبات کے مرکز (hippocampus) سے منسلک ہیں۔ محققین نے ان تبدیلیوں کو "تیز رفتار عمر رسیدگی” (accelerated aging) کے مترادف قرار دیا، جو اس وائرس کے اعصابی نظام پر حملے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
"برین فوگ” کا معمہ: یہ صرف تھکاوٹ نہیں
دنیا بھر میں کروڑوں افراد جو "لانگ کووڈ” کا شکار ہیں، سب سے زیادہ "برین فوگ” کی شکایت کرتے ہیں، جس میں یادداشت کی کمزوری، توجہ مرکوز کرنے میں دشواری، اور سوچ کی سست روی شامل ہے۔ سائنسدان اب اس کی وجوہات جاننے کے قریب پہنچ گئے ہیں:
1. دماغی سوزش (Inflammation): امریکہ میں مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی اور جاپان میں ہونے والی حالیہ تحقیقات (بمطابق 2024-2025) نے تصدیق کی ہے کہ برین فوگ کے مریضوں کے خون میں سوزش پیدا کرنے والے مارکرز (inflammatory markers) کی سطح بہت زیادہ ہوتی ہے۔ یہ سوزش دماغ کے ان حصوں میں خلل ڈالتی ہے جو اعصابی خلیوں کے مابین رابطے (neurotransmission) کو کنٹرول کرتے ہیں، جس سے علمی صلاحیتیں براہ راست متاثر ہوتی ہیں۔
2. دماغی مرمت میں کمی: تحقیق میں یہ بھی پایا گیا کہ ان مریضوں میں "نرو گروتھ فیکٹر” (Nerve Growth Factor – NGF) کی سطح نمایاں طور پر کم ہو جاتی ہے۔ یہ پروٹین دماغ کی خود کو ٹھیک کرنے اور نئے اعصابی کنکشن بنانے (neuroplasticity) کی صلاحیت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
نیا نظریہ: خون کے "مائیکرو کلاٹس”
ایک اور اہم پیشرفت میں، امریکی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) اور آکسفورڈ کی 2023 کی ایک تحقیق نے دماغی نقصان کا ایک اور بڑا سبب دریافت کیا ہے۔ اس نظریے کے مطابق، اصل مجرم وائرس کا براہ راست حملہ نہیں، بلکہ جسم کا مدافعتی ردعمل ہے۔
- تحقیق کے مطابق، کووڈ 19 کے دوران خون میں "فائبرینوجن” (Fibrinogen) اور "ڈی-ڈائمر” (D-dimer) نامی پروٹینز کی سطح بڑھ جاتی ہے، جو خون کو گاڑھا کرتے ہیں۔
- یہ پروٹینز خون کی باریک ترین نالیوں (capillaries) میں چھوٹے چھوٹے، مستقل لوتھڑے یا "مائیکرو کلاٹس” (fibrin amyloid microclots) بناتے ہیں۔
- یہ لوتھڑے دماغ کے مختلف حصوں میں خون اور آکسیجن کی فراہمی (hypoxia) کو روکتے ہیں، جس کے نتیجے میں دماغی خلیوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے، جو بعد میں برین فوگ اور یادداشت کی کمی کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔
طویل مدتی اثرات: ڈیمینشیا کا خطرہ؟
یہ تحقیقات صرف فوری علامات تک محدود نہیں ہیں، بلکہ ان کے طویل مدتی اثرات تشویشناک ہیں:
- برازیلین تحقیق (جولائی 2024): برازیل میں کی گئی ایک تحقیق میں پتا چلا کہ ہلکے کووڈ 19 کا شکار ہونے والے تقریباً 11.7 فیصدافراد انفیکشن کے 18 ماہ بعد بھی یادداشت اور توجہ کی کمی جیسے علمی مسائل کا شکار تھے۔
- ارجنٹائن کی تحقیق: ارجنٹائن میں بوڑھے افراد پر کی گئی ایک تحقیق نے خبردار کیا کہ کووڈ 19 کے بعد "ڈیمینشیا جیسی” علامات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جو ممکنہ طور پر "الزائمر سے متعلقہ پیتھالوجی کو تیز” کر سکتا ہے۔
ماہرین کا انتباہ اور امید کی کرن
اگرچہ یہ تمام تحقیقات کووڈ 19 کو ایک سنگین کثیر نظامی (multi-system) بیماری کے طور پر پیش کرتی ہیں جو صرف پھیپھڑوں تک محدود نہیں، تاہم ماہرین مکمل مایوسی کی تصویر بھی نہیں دکھاتے۔
اصل آکسفورڈ تحقیق کی سربراہ، ڈاکٹر گوینایل ڈوؤڈ کا کہنا ہے کہ، "دماغ واقعی بہت لچکدار (plastic) ہے،” اور اس بات کا امکان موجود ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ دماغ اپنی مرمت خود کر سکتا ہے اور یہ اثرات بہتر ہو سکتے ہیں۔
تاہم، ان تمام انکشافات نے اس بات کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے کہ "لانگ کووڈ” اور "برین فوگ” کو محض نفسیاتی مسائل سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے، بلکہ ان کی حیاتیاتی وجوہات (سوزش اور مائیکرو کلاٹس) کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے اور ٹارگٹڈ علاج (targeted treatments) تیار کیے جائیں۔




