کالمز اور مضامین

چودہ اگست یوم جشن آزادی یا یوم تشکر و تفکر؟‎

گذشتہ رات بستر پر لیٹے نیند کا انتظار کررہا تھا کہ اچانک کیلینڈر پر نظر پڑی، 14 اگست کو قریب آتا دیکھ کر یوم آزادی اور جدوجہد آزادی کا خیال دل سے گزرا اور ساتھ ہی خیالات کی ایک لڑی سی بن گئی۔ جہاں دل یوم آزادی اور جدوجہد آزادی کے خیال کے گزرنے سے مسرور ہوا وہی ملکی موجود صورتحال اور اپنے اپ کو پرکھنے کے بعد دل ایک بیچینی اور اضطراب کا شکار ہوگیا۔ فوراً سے وہ مقاصد ذھن میں آئے جن کے حصول کی خاطر مسلمانوں نے لازوال قربانیاں دیں اور لاکھوں لوگوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔دنیا کی تاریخ میں ایک دن ایسا بھی گزرا کے دریا ستلج مسلمانوں کے خون سے سرخ ہوکر بہا، اور اس دھرتی نے پانی کی جگہ خون کو اپنے اندر جذب کیا۔ یہ قربانیاں دو عظیم الشان مقاصد کے لیے دی گئیں ان میں سے پہلا مقصد ایسی سرزمین کا حصول تھا جہاں مسلمان آزادانہ طور اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہوسکیں۔ اور دوسرا مقصد اس سرزمین پر ایسی ریاست کا قیام تھا جہاں اسلام کا بول بالا ہو، جہاں کا نظام اسلام ہو، جہاں کا قانون قرآن ہو، ایک ایسی ریاست جو مظلوم کی ہمدرد اور ظالم کے لیے ڈراؤنا خواب ہو، وہ ریاست اسلامی دنیا کے عروج اور ترقی کی امید ہو۔

مسلمانوں کی لازوال قربانیوں کے نتیجے میں بالآخر 14 اگست 1947 کو ایک ایسی سرزمین پاکستان کے نام سے ابھر کر دنیا کے نقشے میں آئی کہ جس سرزمین پر مسلمان آزادانہ طور پر دینی تعلیمات پر عمل پیرا ہوسکیں اور جہاں دوسرے مذاہب کے لوگ آزادانہ طور پر امن کے ساتھ انکے ادیان کے مطابق زندگی بسر کر سکتے تھے۔ البتہ مسلمانوں کا دوسرا مقصد پہلے مقصد سے زیادہ عظیم اور مشکل تھا کہ اس سرزمین پر مندرجہ بالا خصوصیات پر مشتمل اسلامی فلاحی ریاست کا قیام اور اس ریاست کو مسلمانوں اوربانیان پاکستان کے خوابوں کی تعبیر بنانا تھا۔ لیکن ہم اس سرزمین کو حاصل کرنے کے بعد اپنے اس اہم مقصد کو بھلا بیٹھے۔ہم نے مغربی ظالمانہ نظام کو اپنایا، انکے ظالمانہ قانون کو اپنا قانون سمجھا، اور مغربی فحاشی و عریانی اور بے حیائی پر مشتمل تہذیب و ثقافت کو اپنایا۔ ہم نے اس ریاست کو ظلم، جہالت، بدعنوانی، جھوٹ، دھوکا اور خیانت، کرپشن وغیرہ سے پروان چڑھایا اور بلآخر یہ سرزمین گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوب گئی۔ جس ریاست کو اسلامی دنیا کی امامت کرنی تھی وہ خود غلامی کی زنجیروں میں جکڑ گئی۔ وہ ریاست جو مظلوموں کے لئے امید کا چراغ تھی اسے خود تاریکیوں نے گھیر لیا۔ اور اس سب کی اصل وجہ ہمارا اپنے مقصد کو بھول جانا ہے۔ لہذٰا 14 اگست جہاں ہمیں اپنے پہلے مقصد (حصول پاکستان) کی یاد دلاتا ہے وہی ہمیں اپنے بھولے ہوئے مقصد کی یاد دہانی بھی کرواتا ہے۔ یہ 14 اگست کا دن یوم جشن آزادی نہیں کہ جس کے جشن میں ہم اس ذات کو ہی بھول بیٹھیں جسکی نصرت کے طفیل ہمیں یہ ملک ملا۔ بلکہ یہ یوم تشکر ہے کہ ہم اس اللہ کا شکر بجا لائیں جس نے یہ کامیابی عطا کی وہیں یہ یوم تفکر بھی ہے کہ ہم اپنے بھولے ہوئے مقصد کو یاد کریں اور اس بارے میں فکر کریں کہ ہم نے اپنے دوسرے مقصد کے حصول کی جدوجہد میں کہاں کھڑے ہیں۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button