مانچسٹر ٹیسٹ: شان مسعود کی سینچری کی بدولت، پاکستان کی پوزیشن مستحکم

پاکستان ڈریسنگ روم کی خوشی کے شور نے شان مسعود کو سلام پیش کیا جب اس نے اپنی سنچری مکمل کی۔
شان مسعود ، نے اپنےسینچری کے لئے 252 گیندوں کا سامنا کرنا پڑا، یہ 21 ٹیسٹ میچوں میں ان کی چوتھی سنچری ہے۔
اس وقت کریز پر شان مسعود اور شاداب خان موجود ہیں اور ان کے درمیان 50 رنز کی شراکت قائم ہوچکی ہے۔ شاداب نے تین چوکوں کے ساتھ 38ہیں۔
پاکستان نے دوسرے دن اپنی پہلی اننگز دو وکٹوں کے نقصان پر 139 رنز سے دوبارہ شروع کی تو بابر اعظم، پھر اسد شفیق اور اس کے بعد وکٹ کیپر محمد رضوان بھی اپنی اپنی وکٹیں گنوا بیٹھے۔
کریس ووکس نے دو وکٹیں حاصل کی ہیں جبکہ جیمز اینڈرسن، اسٹیورٹ براڈ اور جوفرا آرچر نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی ہے۔

جمعرات کو بابر اعظم اور شان مسعود نے پاکستان کی پہلی اننگز دوبارہ شروع کی تو جیمز اینڈرسن کے پہلے ہی اوور میں بابر اپنی وکٹ گنوا بیٹھے۔ ان کا کیچ سلپ میں انگلش کپتان جو روٹ نے پکڑا اور وہ اپنے پہلے دن کے سکور 69 رنز میں کوئی اضافہ نہ کر سکے۔
شان مسعود اور بابر اعظم کے درمیان تیسری وکٹ کے لیے 96 رنز کی شراکت ہوئی تھی۔
اس کے بعد اسد شفیق صرف سات رنز بنا کر اسٹیورٹ براڈ کی گیند پر سلپ میں کیچ آؤٹ ہو گئے۔
محمد رضوان کریز پر کچھ زیادہ پُراعتماد دکھائی نہ دیے اور نو رنز بنا کر کریس ووکس کی گیند پر وکٹ کیپر جوس بٹلر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔
دوسری جانب شان مسعود جن کے لیے 2016 کا دورۂ انگلینڈ ایک ڈراؤنا خواب تھا، اس بار ابتدا میں مشکلات کے باوجود صبر کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں۔ اس اننگز میں قسمت بھی ان پر مہربان رہی ہے اور اسپنر ڈوم بیس نے اگرچہ دو مرتبہ انھیں چکمہ دیا لیکن دونوں مرتبہ کیپر جوس بٹلر کی غلطی کے باعث وہ بچ گئے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2016 کے بعد سے شان مسعود پہلے غیرملکی اوپنر ہیں جنھوں نے انگلینڈ میں کسی ٹیسٹ میچ کی ایک اننگز میں 100 سے زیادہ گیندیں کھیلی ہیں۔







