گوشہ ادب

میں اور شعور؟

 اسکا یہی تو مطلب ہے کہ شعور کا وہ دائرہ مٹا دیا گیا جو کل کائینات تھا۔ جونہی تم اس احساس کو محسوس کرو گے تو تمہارے اندر موجود ہر خوف ہر ڈر ختم ہو جاتا ہے چاہے وہ موت کا ڈر ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن جب تم خود کو سوئی کی نوک جتنا پوائینٹ سمجھتے ہیں پھر ہر دکھ، ڈر،خوف، ڈیپریشن اور خالی ہونے کا احساس تمہارا مقدر بن جاتا ہے۔

 اس وقت تم الٹا سوچ رہے ہو، یاد رکھو جب تم خود کو اپنا دماغ اور جسم سمجھنا شروع کرتے ہو تو پھر تم دماغ ہی کی طرح مادی اور فانی چیزوں سے الجھنا شروع کردیتے ہو۔

 حقیقت یہ ہے تم نہ جسم ہو اور نہ ہی دماغ، یہ دونو چیزیں تسلسل Continuity تخلیق کرتے ہیں۔ یعنی بس چلتے رہنا بھاگتے رہنا چیزوں کے پیچھے لوگوں کے پیچھے اور یہ سلسلہ تا حیات چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ موت آکر دبوچ لیتی ہے۔ اور یہ بھاگتے رہنا دکھ تراشتا ہے چیزوں کو حاصل کرنے کی جستجو اور پھر ان میں ناکامی درد کی وجہ بنتی ہے۔

جبکہ حقیقی شعور کسی بھی چیز کا تعقب نہیں کرتا، وہ اپنی لافانی حالت میں موجود رہتا ہے بلکہ پھر چیزیں اس کا تعقب کرتی ہیں۔

 کبھی تم نے سوچا ایک حقیقی صوفی، فقیر یا درویش اس جہان کی تمام چیزوں سے لاتعلق کیوں رہتا ہے؟
 اسکی صرف اور صرف ایک ہی وجہ ہے کہ وہ اپنے اندر موجود اس حقیقت میں ایسا مگن ہو چکا ہوتا ہے کی اس کو کسی بھی چیز کی ضرورت نہیں رہتی۔ وہ اسی ‘خالی پن’ میں مکمل ہے، اس کا دماغ وہ سراب تخلیق کر ہی نہیں پاتا جس میں نامکمل ہونے کی سوچیں جنم لے سکیں۔

اپنے دماغ میں موجود آپ کا احدہ، مرد یا عورت ہونا، چھوٹا یا بڑا ہونا، غریب یا امیر ہونا ان سب چیزوں کو پیچھے چھوڑ دو اور پھر مجھے بتاو کہ تم کون ہو؟

 ان سب چیزوں سے دماغ کو آزاد کرنےکہ بعد جو بچ جائے گا حقیقت میں وہ تم ہو، وہ حقیقی تم جس نے خود کو ان سب چیزوں سے الجھا لیا ہے۔ یہ سب چیزیں سوائے اک نام کے اور کچھ بھی نہیں۔

تم اصل میں اس وقت دکھی ہوتے ہو جب تم خوشیوں کی تلاش میں بھاگتے ہو اور پھر اس سے بڑا ظلم یہ کہ ان خوشیوں کو مادی چیزوں میں تلاش کرتے ہو۔ وہ مادی چیز جو جڑی ہوتی ہیں پیسہ، گاڑی، گھر، انسان یا پھر کوئی بھی ایسی چیز جس نے فنا ہونا ہے سے جو عارضی ہے۔  یاد رکھو ان سب عارضی چیزوں سے حاصل ہونے والی خوشی بھی عارضی ہوگی۔ اتنی زیادہ عارضی کہ وہ صرف تب تک برقرار رہے گی جب تک تم اسے حاصل نہیں کرلیتے۔

  اور یہ سلسلہ کبھی نہ رکنے والا ہے،
 کیا سمجھتے ہو؟
 بڑی گاڑی حاصل کرلینے کے بعد کوئی اور خواہش باقی نہ رہیگی؟
 اپنی محبت کو حاصل کرلینے کے بعد کوئی اور منزل نہ رہیگی؟
 امیر ہو جانے کے بعد کیا اس سے زیادہ پیسے کے حصول کی حوس نہ رہیگی؟

یقین ہے تم سی طرح بے تاب اور بھاگتے رہو گے۔ ذیادہ پھراس سے زیادہ اور پھراس سے بھی کہیں زیادہ۔

یہ بات سمجھ لو خوشی تم خود ہو صرف اس موجودہ حالت کو قبول کرلو، ٹھہر جاو، مت بھاگو، تمہیں کچھ اور حاصل ہی نہیں کرنا کیونکہ تم خود میں ہی مکمل ہو۔

Show More
Back to top button