میری زندگی کی یادگار بارشیں

تین کمروں کا سیمنٹ کی چھت والا مکان تھا ہمارا جس کے نیچے امی ابو نے زندگی کے 37 سال گزارے جب بھی امی کو غصہ آتا تھا وہ یہ ہی کہتی تھیں زندگی کے 37 سال اس کھنڈر میں گزار دیے۔ جب بارش ہوتی تو سب گھر والوں کا پورا دن بلکہ رات بھی کیونکہ بارش صرف دن میں ہی تھوڑی نازل ہوتی ہے اس طرح گزرتا کوٸی چھت کے نیچے پتیلی رکھ رہا ہے بارش کے ساتھ ہماری چھت بھی برستی تھی۔ امی کچن میں جا کر کھانے کو محفوظ مقام پر رکھ رہی ہیں بہن بھاٸیوں کو اپنی کتابوں کی فکر کہیں بھیگ نہ جاٸیں۔ گھر ہی کچھ اس طرح بنا ہوا تھا کتنا ہی بچا لو لیکن کہیں نہ کہیں سے پانی کی آمدورفت ہو ہی جاتی تھی، چھت سے پانی بوچھاڑ کی صورت میں ٹپکتا تو دہلیز سے لے کر کمرے کے آدھے حصے کو تر کر جاتا، متواتربارش ہوتی تو چھت پہ رکے ہوے پانی کی وجہ سے دیواریں سیلن زدہ ہوجاتی لیکن ان سب عجاٸبات کے باوجود سب بہن بھاٸی مل جل کر کام کرتے کمروں میں سے پانی نکالتے اور بڑی خوشی خوشی کہتے باہر بھیگ لیں یا گھر میں ایک ہی بات ہے، اکلوتا غسل خانہ ہونے باعث غسل خانے کے باہر قطار لگ جاتی سب کو جلد از جلد نہانے کی ہوتی، کمرے کے بیچ میں پلنگ بچھا لیے جاتے اور سب کی کوشش ہوتی وہ کسی نہ کسی طرح پلنگ پہ سوار ہوجاٸیں جیسے پلنگ نہ ہو، کوٸی تخت سلیمان ہو۔
دن گزرے مہینے گزرے سب بہن بھاٸی تعلیم سے فارغ ہوگۓ، ابو ملازمت سے ریٹاٸر ہوئے تو انہوں نے سارا پیسہ ایک گھر پہ لگایا اور تین منزلہ عمارت بنا ڈالی۔ آپی کی شادی ہوگٸ اپنے گھر میں خوش ہیں، ہمارے گھر میں بھابھیاں آگٸی۔ دو بھاٸی بیرون ملک میں ہیں۔ اب گھر میں پانچ اٹیچ باتھ ہے سب کو نہانے کی جلدی ہوتی ہے لیکن کوٸی قطار نہیں بنتی وہ تخت سلیمان کا پلنگ اسٹور کی چھت پہ پڑا ہے، سب کے اپنے اپنے کمرے ہیں، کسی کمرے کی چھت نہیں ٹپکتی ہے نہ دیواروں پہ سیلن آتی ہے۔ پتہ ہی نہیں چلتا کے بارش ہوٸی ہے، ہاں بالکونی میں ہلکی سی ٹپ ٹپ محسوس ہوتی ہے۔ سیمنٹ کی چھت پر تو یہ ٹپ ٹپ ایسے لگتی تھی جیسے آسمان سر پہ ہو۔ لیکن اب ایسا کچھ نہیں ہے امریکن طرز کے کچن میں امی مصروف ہوتی ہیں، ابو ٹی وی دیکھ رہے ہوتے ہیں اور ملکی حالات پہ تبصرہ۔ عام لوگوں کی طرح میں بھی ہاتھ میں موباٸل لیے بیٹھا ہوں اور سوچ رہا ہوں کیا لکھوں ہیپی ریننگ، واٶ بارش موسم اِز سو اُوسم،،، لیکن نہیں لکھ پا رہا۔ میری زندگی کی یادگار بارشیں تو 2016 سے پہلے تک کی تھیں۔ ہاں 2016 کے اواٸل دنوں میں ہی تو ہم احمد ولا میں داخل ہوۓ تھے اور اپنی حقیقی خوشیاں اپنی ہی گلی کے اُس ساتویں تین کمروں کے مکان، نہیں مکان نہیں بلکہ ”گھر“میں چھوڑ آئے۔ اب تو احساس جذبات سے خالی بارشیں ہیں جو چاہ کر بھی دل کو سکون و راحت دینے میں ناکام ہیں۔ کل رات سے وقفے وقفے سےبادل برس رہے ہیں اور مجھے وہ سہانے دن یاد آرہے ہیں۔