موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ ”مستحکم“ کردی

کریڈٹ ریٹنگ کے بین الاقوامی ادارہ موڈیزنے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ ”مستحکم“ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وباء کی وجہ سے مختلف بین الاقوامی پابندیوں کے باعث پاکستان کی معیشت کے ڈاون سائیڈ خطرات بڑھے ہیں اوراس کے نتیجہ میں حکومت کیلئے مالیاتی چیلنجز بڑھ گئے ہیں تاہم ترقیاتی شراکت داروں کی بھرپورمعاونت بشمول غیرملکی قرضوں وامداد اوروبائی بحران سے قبل حکومت پاکستان کی جانب سے کلی معیشت کیلئے نافذ کردہ پالیسیوں کے باعث پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں اورکیش (لیکویڈیٹی) کے خطرات کوکم کردیا گیاہے۔
موڈیزنے پاکستان کی بی تھری ریٹنگ برقراررکھی ہے تاہم پاکستان کے اقتصادی پیش منظرکو ”زیرجائزہ“ سے ”مستحکم“ کردیاگیا ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق موڈیز کے اس اقدام سے بے مثال مشکل حالات اورغیریقینی کے ماحول میں حکومت کے مضبوط اورجامع مالی واقتصادی پالیسیوں کی عکاسی ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ مشکل ترین اندرونی اور بین الاقوامی حالات کے باوجود مالی سال 2019-20ءمیں بیرونی ادائیگیوں کے شعبہ میں استحکام آیا ہے ۔
گزشتہ مالی سال میں کرنٹ اکاؤنٹ کے خسارہ میں کمی کاسلسلہ جاری رہا، ۔مالی سال 2019-20ءکے دوران حسابات جاریہ کے خسارہ میں مجموعی طوپر77.9 فیصد کمی ریکارڈکی گئی، مالی سال کے اختتام پرکرنٹ اکاؤنٹ کاخسارہ 2.9 ارب ڈالرریکارڈ کیا گیا جومجموعی ملکی پیداوارکا 1.1 فیصد بنتاہے۔
مجموعی تجارتی خسارہ میں گزشتہ مالی سال کے دوران 27.9 فیصد کی کمی ہوئی ہے۔ اسی طرح ترسیلات زرمیں بتدریج اضافہ کاسلسلہ بھی جاری ہے۔
موڈیز انویسٹرز سروس کی طرف سے جاری بیان میں حکومت پاکستان کی بی 3 مقامی اور غیر ملکی کرنسی جاری کرنے والے اور سینئر غیر محفوظ شدہ قرضوں کی درجہ بندی کو منفی سے مستحکم کرنے کی تصدیق کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ موڈیز نے تیسری پاکستان انٹرنیشنل سکوک کمپنی لیمیٹڈ کیلئے بھی بی تھری ریٹنگ کی تصدیق کی ہے اورکہا ہے کہ موڈیز کی رائے میں منسلکہ ادائیگی کی ذمہ داریاں حکومت پاکستان کی براہ راست ذمہ داریاں ہیں۔ بیان کے مطابق تنزلی کے جائزہ سے موڈیز کے اس جائزہ کی عکاسی ہورہی ہے کہ پاکستان کے گروپ 20 کے قرضوں کی ادائیگی کے معطلی کے اقدام یا (ڈی ایس ایس آئی) میں شمولیت سے نجی شعبے کے قرضہ فراہم کرنے والے اداروں کیلئے نقصان کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔







