کالمز اور مضامین

پہلے انسانيت یا مذہب

بے شمار مختلف مذہب، فرقے، عقيدے، رنگ۔ نسل، کلچراور معاشرے کے لوگوں سے بھری ہماری یہ دنيا تو ایک ہی ہے ليکن آخر کيا چيز ہم سے پيچھے چھوٹ گئی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے مذہب، فرقے، عقيدے، رنگ، نسل، کلچر اور معاشرے کو اتنی حقارت کی نظر سے دیکھنے لگ گئے ہيں۔ مذہب کوئی بھی ہو اس کی تعليمات کوئی بھی ہوں اس کا خدا کوئی بھی ہو ليکن انسانيت کو برقرار رکھنا تو ہر مذہب کی تعليمات ميں اولين جزو سمجھا جاتا ہے اور ایسا ہو بھی کيوں ناں کيا حضرت آدمؑ صرف انسان کی تکميل کے ليے نہيں اترے تھے بہشت کوچھوڑ کر زمين پر؟ اسی پہلے انسان حضرت آدمؑ سے غلطی نہيں سرزد ہوئی جس کی بناء پر ہم آج بھی کہتے نظر آتے ہيں ( اچھا چھوڑو ناں یار غلطی انسانوں سے ہی ہوتی ہے )

کوئی بھی معاشرہ چاہے وہ کسی بھی مکتب فکر سے تعلق رکھتا ہو جب اس معاشرے ميں امن۔ محبت۔ بھائی چارہ اور انسانيت نہيں تو یہ ممکن ہی نہيں کہ وہ معاشرہ اپنے آپ کو دیرپا برقرار رکھ سکے۔ انسانيت اک عظيم عبادت ہے اور اشرف المخلوقات ایک ایسا لقب ہے جو ہم انسانوں کے حصے ميں آیا ہے جس کی ہم ذرا پاسداری نہيں کر رہے اور ناں ہميں اس کا کوئی افسوس ہے

ہماری روزمرہ کی ذندگی ميں اک سوال ہے جس کا ہميں ہميشہ ہی سامنا رہتا ہے جو کہ اک نہایت ہی ناں معقول سوالوں ميں شمار ہوتا ہےاورجس کا آپکو اپنے دفتر، دوستوں، چائے کی دکان پر بيٹھے چند سياسی دوست اور یہاں تک کہ تعليمی ادروں ميں بھی آپکو ڈھونڈتا ہوا آپ تک پہنچ جاتا ہے اور وہ ہے ( آپ کون ہيں ) اور اس سے انکا مراد آپکا نام یا آپکی شناخت نہيں بلکہ آپکا مذہب ہے اور اگر آپ غلطی سے بھی سوال کرنے والے کے ہم مذہب نہيں ہيں تو آپکی تب تک اینٹ سے اینٹ بجتی رہے گی جب تک آپکا اس شخص سے واسطہ رہے گا مطلب کہ آپ انسان ہيں جيسی آنکھ ناک کان بال ہاتھ پير آپکے ہيں ویسے ہی اس سوال کرنے والے کے بھی ہيں ليکن اس کا جنون اس قدر ٹھاٹھيں مار چکاہے کہ اس کو ان سب باتوں سے کوئی غرض نہيں بس آپ اس کے ہم مذہب نہيں تو لہذا اب آپ انسان بھی نہيں۔ اور اسی ليے ہمارے معاشرےميں انسانيت اور انسانيت کا پرچار کرنے والے لوگ سسک سسک کر آخری سانسيں لے رہے ہيں ليکن انسانيت کا بول بالا کرنے والے لوگ اميد کا دامن بھی تو نہيں چھوڑ سکتے۔

اس پوری کائنات ميں ہماری زمين سے ہٹ کر ہماری زمين جيسی اربوں کہکشائيں موجود ہيں مگر ان سب کے بدلے اک انسان بيش قيمتی ہے کہ ہماری زمين پر موجود اک انسان جيسا دوسرا انسان ان اربوں کہکشاہوں ميں ننگے پير ہاتھوں ميں چراغ ليے ڈھونڈنے پر بھی نہيں ملنے والا وہ اس پاک ذات نے ایک ہی پيدا کيا تھا جس کو ہم نے اور تم نے مذہب اور جنونيت کی آڑ ميں اور انسانيت کو بھول کر اسے موت کی بھيند چڑہا دیاتھا

متعلقہ پوسٹس

انسانيت بيش قيمتی چيز ہے آپکے لاکھ اختلافات اپنی جگہ مگر اک انسان سے جينے کا حق چھين کر انسان پر روزِ محشر سے پہلے روزِ محشر برپا ناں کریں ؎ آدمؑ سے چل رہا ہے خطاٶں کا سلسلہ انسان اپنے باپ کے نقشے قدم پہ ہے ؔ

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button