مشرق وسطیٰ

بیروت دھماکے: پرتشدد مظاہروں کے بعد لبنان کی حکومت مستعفی

لبنان کی حکومت نے منگل کے ہلاکت خیز اور تباہ کن دھماکے کے بعد، پھوٹ پڑنے والے احتجاجی مظاہروں کے نتیجےمیں استعفی دے دیا ہے۔ اس بات کا اعلان ملک کے وزیر اعظم نے پیر کی رات کو کیا۔

وزیر اعظم حسان دیاب نے ٹیلی وژن پر نشر کی جانے والی اپنی تقریر میں کہا کہ ‘میں اس حکومت کے مستعفی ہونے کا اعلان کرتا ہوں۔ خدا لبنان کی حفاظت کرے’۔

دیاب کا کہنا تھا کہ ‘وہ ایک قدم پیچھے ہٹ رہے ہیں تا کہ وہ عوام کے ساتھ کھڑے ہو سکیں اور ان کے ساتھ مل کر تبدیلی کی جنگ لڑ سکیں’۔

تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ نئے انتخابات کب ہوں گے۔

انہوں نے ملک کو درپیش لاتعداد مسائل کا ذمہ دار اس سیاسی اشرافیہ کو قرار دیا جنہوں نے تقریباً 30 سال پہلے خانہ جنگی کے اختتام تک لبنان پر حکمرانی کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ملک میں اقتصادی اور سیاسی تباہی و بربادی لے کر آئے جس کا نتیجہ پچھلے ہفتے کے سانحے کی شکل میں ظاہر ہوا۔

حکومت کے مستعفی ہونے کا فیصلہ کئی وزیروں اور قانون سازوں کے استعفوں کے بعد ہوا۔ ان کے استعفوں کے باوجود پوری حکومت کی برطرفی کے مطالبے جاری تھے اور اس دوران ہفتے اور اتوار کے بڑے پیمانے پر مظاہرے بھی ہوئے۔

فنانس منسٹر غازی وزنی کے قریبی ذرائع کے مطابق وہ بھی مستعفی ہونے والے تھے۔

دارالحکومت بیروت میں اتوار کو دوسرے روز بھی احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔ مظاہرین نے پارلیمنٹ ہاؤس جانے والی شاہراہ پر احتجاج کیا جنہیں منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس استعمال کی۔

مظاہرین نے پارلیمنٹ اسکوائر پر تعینات سیکیورٹی اہل کاروں کا حصار توڑنے کی بھی کوشش کی۔ مشتعل مظاہرین نے تعمیرات اور ٹرانسپورٹ سمیت مختلف وزارتوں کے دفاتر میں بھی توڑ پھوڑ کی۔

گزشتہ ہفتے بیروت کی بندرگاہ پر ہونے والے طاقت ور دھماکے میں اب تک 158 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے جب کہ 6000 سے زائد شہری زخمی ہیں۔

دھماکہ بیروت کی بندرگاہ پر قائم ایک گودام میں رکھے گئے دو ہزار ٹن سے زائد امونیم نائٹریٹ کے ذخیرے میں ہوا تھا۔

قبل ازیں لبنان کے صدر نے کہا تھا کہ دھماکہ خیز مواد کئی برسوں سے بندگاہ پر غیر محفوظ طریقے سے رکھا کیا گیا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے کہا کہ ’اس بات کی تحقیق کی جا رہی ہے کہ دھماکے بیرونی مداخلت، غفلت یا ایک حادثے کے نتیجے میں ہوئے۔‘

پیر کو لبنانی فوج نے کہا کہ ملبے سے پانچ مزید لاشیں نکالی گئی ہیں اور اموات کی کُل تعداد 163 ہو گئی ہے اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

اس دھماکے کے بعد لبنان میں جاری معاشی بحران اور حکومت کی جانب سے اصلاحات کے نفاذ میں ناکامی کے خلاف پہلے سے جاری احتجاج مزید شدید ہو گیا ہے۔ مظاہرین حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

احتجاج کے بعد اتوار کو وزیرِ اطلاعات منال عبدالصمد نے مستعفی ہونے کا اعلان کیا جس کے کچھ دیر بعد ہی کابینہ کے دوسرے رکن وزیر برائے ماحولیات دمیانوش قطار نے بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق دمیانوش قطار نے مستعفی ہونے کے بعد اپنے بیان میں کہا ہے کہ حکومت نے اصلاحات کے متعدد مواقع ضائع کیے۔

عرب نیوز کے مطابق بیروت میں ایک انجینیئر جو ہداد نے روئٹرز کو بتایا کہ ’پورے نظام حکومت کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ نئی حکومت کے آنے سے کوئی فرق نہین پڑے گا۔ ہمیں فوری انتخابات کی ضرورت ہے۔‘

عرب نیوز نے سرکاری نیوز ایجنسی ’این این اے‘ اور  وزارتی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ کابینہ نے دھماکوں کی تحقیقات کا معاملہ جوڈیشل کونسل کو بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے فیصلے پر اپیل نہیں کی جا سکتی۔

کچھ لبنانی شہریوں کو اس بات پر شک ہے کہ ایسے ملک میں تبدیلی آ سکتی ہے جہاں فرقہ وارانہ ذہن کے سیاستدان 1975 سے 1990 تک مسلط رہے۔

دھماکوں میں تباہ ہو جانے والی الیکٹرسٹی کمپنی کے ملازم انتوئنیتے باکلینی نے کہا کہ ’یہ نظام کام نہیں کرے گا، یہ وہی لوگ ہیں۔ یہ مافیا ہے۔‘

گزشتہ دو روز سے جاری احتجاج گزشتہ سال اکتوبر میں حکومت مخالف مظاہروں کے بعد ہونے والا اب تک کا سب سے بڑا احتجاج ہے۔ اتوار کو سیکیورٹی اہلکاروں اور مظاہرین میں جھڑپوں میں ایک پولیس اہلکار بھی ہلاک ہوا جب کہ ریڈ کراس کے حکام نے 170 مظاہرین کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

گذشتہ دو روز سے جاری حکومت مخالف مظاہرے پچھلے سال اکتوبر میں ہونے والے مظاہروں سے بہت بڑے تھے۔

احتجاج کے بعد لبنان کے وزیرِ اعظم حسان دیاب نے قبل از وقت انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔ ان کے بقول لبنان اس بحران سے قبل از وقت انتخابات کے علاوہ کسی صورت باہر نہیں آ سکتا۔

خیال رہے کہ اکتوبر 2019 میں ہونے والے احتجاج کے بعد لبنان کے وزیرِ اعظم سعد حریری مستعفی ہو گئے تھے جس کے بعد ملک کے صدر میشال عون نے حسان دیاب کو حکومت سازی کی دعوت دی تھی۔ حسان دیاب کی 20 رکنی کابینہ نے رواں برس جنوری میں ہی اقتدار سنبھالا تھا۔

بیروت دھماکے کے بعد اتوار کو عالمی رہنماؤں نے ویڈیو لنک پر منعقدہ کانفرنس میں دھماکے کے بعد متاثرین کے لیے فوری طور پر لگ بھگ 30 کروڑ ڈالر کی امداد فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

فرانس کے صدر ایمانوئل میخواں کی میزبانی میں ہونے والی اس ویڈیو کانفرنس کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ امداد لبنان کے عوام براہِ راست پہنچائی جائے گی۔

واضح رہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت کئی عالمی رہنما بیروت میں ہونے والے دھماکے کی غیر جانب دارانہ، آزاد اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر چکے ہیں۔

تباہ کن دھماکے کے بعد صدر ٹرمپ کی ہدایت پر امریکہ کی جانب سے لبنان کو طبی امداد، خوراک اور پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔

امریکہ کے وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ابتدائی طور پر لبنان کو ایک کروڑ 70 لاکھ ڈالرز کی امداد فراہم کر رہی ہے۔ ان کے بقول امریکہ اس المناک حادثے کے بعد لبنانی عوام کی بحالی کی کوششوں میں ان کی مدد کرتا رہے گا۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button