پاکستان میں یو ایس ایڈ کے تحت چلنے والے اداروں پر چینی ساختہ آلات کے استعمال پر پابندی

ٹوڈیز نیوز کو اپنے زرائع سے حاصل شدہ دستاویز کے مطابق امریکی حکومت کی طرف سے”ٹیلی مواصلات اور ویڈیو نگرانی کی خدمات اور ساز و سامان کے معاہدے پر پابندی” کے قواعد و ضوابط میں ترمیم کی وجہ سے، یو ایس ایڈ نے خدمات فراہم کرنے والے اداروں پر ، مندرجہ ذیل چینی فرموں اور ان کے ملحقہ اداروں کے ذریعہ تیار کردہ ٹیلی مواصلات اور ویڈیو نگرانی کے آلات کا استعمال ممنوع کردیا ہے۔
- ہواوے ٹیکنالوجیز کمپنی
- زیڈ ٹی ای کارپوریشن
- ہائیٹرا کمیونیکیشن کارپوریشن
- ہانگجو ہیک ویژن ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کمپنی
- داہوا ٹکنالوجی کمپنی
یو ایس ایڈ نے پاکستان میں کام کرنے والے تمام زیلی اداروں کو ایک حلف نامہ کے زریعے اس بات کو یقینی بنانے کو کہا ہے۔
یاد رہے کہ ہواوے اور زیڈ ٹی ای دنیا بھر میں ٹیلی کام نیٹ ورکنگ کی مصنوعات بنانے والی بڑی کمپنیاں ہیں جو ان دنوں امریکہ اور چین کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی کی لپیٹ میں ہیں۔
امریکہ نے رواں برس مئی میں ‘ہواوے’ اور اس کی 70 سے زائد ذیلی اور اس سے منسلک کمپنیوں کو بلیک لسٹ کر دیا تھا۔
امریکہ کا الزام ہے کہ ہواوے کے چین کی حکومت کے ساتھ رابطے ہیں اور وہ اپنے ٹیک آلات کے ذریعے چین کے لیے جاسوسی کرتی ہے۔
چین کے بعد یورپ ‘ہواوے’ کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے جب کہ امریکہ نے اپنی مارکیٹ میں ہواوے کو کاروبار سے روک دیا ہے۔
برطانیہ سمیت امریکہ کے کئی یورپی اتحادی بھی سائبر سیکیورٹی سے متعلق خدشات کے پیشِ نظر ہواوے کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظرِ ثانی کر رہے ہیں۔
ہواوے چین کی حکومت کے لیے جاسوسی کرنے کے امریکی الزامات کا مسترد کرتی آئی ہے جب کہ چین کی حکومت نے بھی ان الزامات کو رد کیا ہے۔







