معیشت اور کاروبار

اسٹیٹ بینک نے مقامی کمپنیوں کو بین الاقوامی ڈجیٹل سروسز فراہم کرنے والے اداروں سے خریداری کےعوض فوری ادائیگی کی اجازت دے دی

اسٹیٹ بینک نے مقامی کمپنیوں کو عالمی طور پر تسلیم شدہ ڈجیٹل سروس پرووائیڈرز سے خدما ت کی خریداری کےعوض فوری ادا ئیگی کی اجازت دے دی

پا کستان میں کاروبار کرنے کی آسانی کو مزید بہتر بنانے کی غرض سے پاکستان میں کمپنیوں کو کسی پریشانی کے بغیرعالمی طور پر تسلیم شدہ ڈجیٹل سروس پرووائیڈر کمپنیوں سے ڈجیٹل خدمات کی خریداری کے عوض فوری ادائیگی کرنے میں مدد دینے کے لیے نیا طریقہ کار متعارف کرا یا ہے۔

اب مقامی کمپنیاں ان عالمی کمپنیوں سے اشتہارات، ہوسٹنگ، ڈیٹا بیس رسائی، اکاؤنٹنگ مینجمنٹ، استعداد کاری اور کسٹمر سپورٹ وغیرہ سمیت مختلف خدمات کسی ضوابطی منظوری کےعمل کے بغیر فوری رسائی حاصل کرسکیں گی۔ اس سہولت سے مقامی طور پر اور بیرون ملک صارفین تک ان کی رسائی میں اضافہ ہوگا جس سےانہیں اپنی موجودگی بڑھانے اور کارکردگی میں اضافہ کرنے میں مدد ملے گی۔

نومبر 2019 ء میں اسٹیٹ بینک نے بیرون ملک سے خدمات کی خریداری کے لیے ایک فریم ورک متعارف کرایا تھا جس کے تحت کمپنیاں اسٹیٹ بینک میں اپنا کنٹریکٹ رجسٹر کرانے کے بعد خدمات حاصل کرسکتی تھیں، تاہم بعض کاروباری اداروں نے بتایا تھا کہ انہیں اس طریقہ کار میں ڈجیٹل سروس پرووائیڈر کمپنیوں کو ادائیگی کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

تمام متعلقہ فریقوں سے تفصیلی مشاورتی عمل کے بعد ’’ادائیگی بعوض رسید کی بنیاد‘‘ پر ایک بہت آسٓان عمل متعارف کرایا گیا ہے جس میں مذکورہ بالا موجود ہ فریم ورک کے علاوہ سالا نہ حدود کا تعین کیا گیا ہے۔

اب بینکوں کو ہرمقامی کمپنی کے لیے ڈجیٹل سروسز پر زیادہ سے زیادہ 200,000 ڈالرز کا زر مبادلہ جاری کرنے کی عمومی اجازت ہوگی جو بنیادی طور پر 62 ڈجیٹل سروس پرووائیڈر کمپنیوں بشمول ان سے منسلکہ اداروں کو حاصل ہے، جن کی فہرست اسٹیٹ بینک کے سر کلرپر موجود ہے تاہم اس حد کے اندر مجازڈیلرزاُن ڈجیٹل سروس پرووائیڈرز کو زیادہ سے زیادہ 25,000 ڈالرز سالانہ کا زر مبادلہ جاری کرسکتے ہیں جو اس لسٹ میں شامل نہیں۔

بینک ان ادائیگیوں کے لیے اپنے کلائنٹس کو ڈجیٹل چینلز کی پیش کش کرسکتے ہیں

اسٹیٹ بینک کے سرکلر کے لیے یہاں کلک کریں۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button