خامہ بگوش

‘خامہ بگوش’ کون ہے؟ خامہ یعنی قلم اور گوش یعنی کان۔ کان پر قلم رکھنے کو خامہ بگوش کہتے ہیں اور یہ دلچسپ قلمی نام اردو ادب کے ایک بہت قابل محقق، شاعر اور نقاد مشفق خواجہ نے کراچی کے ایک اخبار میں ادبی کالم لکھنے کے لئے اپنایا تھا۔
یہ کالم اپنے شگفتہ اور چبھتے ہوئے جملوں کی وجہ سے بے حد مشہور ہوئے اور بعد میں ایک کتاب "خامہ بگوش کے قلم سے” کے نام سے شائع ہوئے۔ انھوں نے ‘لاغر مرادآبادی’ کے نام سے ایک دلچسپ کردار تخلیق کیا تھا، جس کی زبانی خامہ بگوش ہند و پاک کے شاعروں اور مصنفوں کی تخلیقات پر دلچسپ تبصرے کرواتے تھے۔
وہ متعدد کتابوں کے مصنف تھے۔ مشفق خواجہ اپنے ذاتی کتابوں کے ذخیرے کے لئے بھی مشہور تھے۔ ان کی لائبریری میں سترہ ہزار سے زیادہ کتابیں تھیں۔ کراچی میں ان کے گھر میں گیارہ کمرے تھے جن میں سے دس میں کتابیں رکھی تھیں، اور ان کی دیکھ بھال کے لئے کئ لوگ مقرر تھے۔ مشفق خواجہ کو فوٹو گرافی کا بھی بہت شوق تھا۔ انھوں نے متعدر کیمروں اور سیکڑوں تصاویر کا بھی ایک ذخیرہ جمع کر رکھا تھا۔
حالات زندگی
مشفق خواجہ 19 دسمبر،1935ء کو لاہور، برطانوی ہندوستان موجودہ پاکستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام خواجہ عبد الحئی تھا۔ انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کیا۔ ان کے والد خواجہ عبد الوحید علامہ اقبال کے ہم جلیس اور کئی علمی کتب کے مصنف تھے جبکہ ان کے چچا خواجہ عبد المجید اردو کی معروف لغت "جامع اللغات” کے مؤلف تھے۔ چچا زاد بھائی خواجہ خورشید انور نے موسیقی میں ناموری حاصل کی تھی۔
انجمن ترقی اردو پاکستان سے وابستگی
خواجہ صاحب 1957ء سے 1973ء تک انجمن ترقی اردو پاکستان سے وابستہ رہے۔ ان کی خوش قسمتی تھی کہ انہیں مولوی عبدالحق جیسے پارکھ کی شفقت نصیب ہوئی، جنہوں نے مشفق خواجہ کے جوہر قابل کو پہچان کر اسے سامنے لانے میں پوری مدد کی۔ وہ انجمن میں علمی و ادبی شعبے کے نگراں رہے۔
ادبی خدمات
مشفق خواجہ بہ حیثیت مدیر قومی زبان اور سہ ماہی اردو سے وابستہ رہے۔ خامہ بگوش ان کا قلمی نام تھا۔ وہ ایک نامور محقق تھے، لیکن ساتھ ہی بہترین طنز نگار، کالم نویس اور نقاد بھی تھے۔ حالانکہ خواجہ صاحب نے طنز و مزاح کا میدان صرف ادبی کالم نویسی کے لیے اپنایا تھا۔ ان کے ادبی کالم اپنے تنوع، برجستگی اور کٹیلے جملوں کی وجہ سے اپنا ایک الگ اور بلند مقام رکھتے ہیں۔
تصانیف
- جائزۂ مخطوطات اُردو
- خوش معرکہ زیبا (دو جلدیں)
- غالب اور صفیر بلگرامی
- سخن در سخن ( کالموں کا مجموعہ)
- خامہ بگوش کے قلم سے ( کالموں کا مجموعہ)
- اقبال از مولوی احمد دین
- کلیات ِ یگانہ
- سخن ہائے گفتنی ( کالموں کا مجموعہ)
- سخن ہائے گسترانہ ( کالموں کا مجموعہ)
- خونناب (مرتب)
- تحقیق نامہ (تحقیقی مضامین)
نمونہ کلام
غزل
نقش گزرے ہوئے لمحوں کے ہیں دل پر کیا کیا
مڑ کے دیکھوں تو نظر آتے ہیں منظر کیا کیا
کتنے چہروں پہ رہے عکس مری حیرت کے
مہرباں مجھ پہ ہوئے آئینہ پیکر کیا کیا
وقت کٹتا رہا مے خانے کی راتوں کی طرح
رہے گردش میں یہ دن رات کے ساغر کیا کیا
چشم خوباں کے اشاروں پہ تھا جینا مرنا
روز بنتے تھے بگڑتے تھے مقدر کیا کیا
پاؤں اٹھتے تھے اسی منزل وحشت کی طرف
راہ تکتے تھے جہاں راہ کے پتھر کیا کیا
رہ گزر دل کی نہ پل بھر کو بھی سنسان ہوئی
قافلے غم کے گزرتے رہے اکثر کیا کیا
آذرانہ تھے مری وحشت دل کے سب رنگ
شام سے صبح تلک ڈھلتے تھے پیکر کیا کیا
اور اب حال ہے یہ خود سے جو ملتا ہوں کبھی
کھول دیتا ہوں شکایات کے دفتر کیا کیا
غزل
یہ کوئی دل تو نہیں ہے کہ ٹھہر جائے گا
وقت اک خواب رواں ہے سو گزر جائے گا
ہر گزرتے ہوئے لمحے سے یہی خوف رہا
حسرتوں سے مرے دامن کو یہ بھر جائے گا
دل شفق رنگ ہوا ڈوبتے سورج کی طرح
رات آئے گی تو ہر خواب بکھر جائے گا
شدت غم سے ملا زیست کو مفہوم نیا
ہم سمجھتے تھے کہ دل جینے سے بھر جائے گا
چند لمحوں کی رفاقت ہی غنیمت ہے کہ پھر
چند لمحوں میں یہ شیرازہ بکھر جائے گا
اپنی یادوں کو سمیٹیں گے بچھڑنے والے
کسے معلوم ہے پھر کون کدھر جائے گا
یادیں رہ جائیں گی اور یادیں بھی ایسی جن کا
زہر آنکھوں سے رگ و پے میں اتر جائے گا
اعزازات
مشفق خواجہ کو ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں 1993ء کو حکومت پاکستان نے صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی سے نوازا۔
مشفق خواجہ پر لکھی گئی کتابیں
مشفق خواجہ ادارہ،فرد،نابغہ از سید نعمان الحق
مشفق خواجہ—ایک مطالعہ از خلیق انجم (1985)
مشفق من خواجہ من (محمد عالم مختار حق)
تدویناتِ مشفق خواجہ:ایک تعارف از محمد قاسم
سن تو سہی (2008) مرتبین – انور سدید، عبد الرحمن طارق
مشفق خواجہ: فن اور شخصیت از محمد اسلام نشتر (2008)
متعلقات مشفق خواجہ مرتبین – ساحر شیوی، صابر ارشاد، سید معراج جامی ناشر: یورپین اردو رائٹرز سوسائٹی (لندن)
مشفق خواجہ: ایک کتاب انور سدید یورپ اکادمی، اسلام آباد
وفات
مشفق خواجہ 21 فروری، 2005ء کو کراچی، پاکستان میں انتقال کر گئے اور سوسائٹی کے قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے۔
