معیشت اور کاروبار

کیا ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ دیرپا ہے یا وقتی؟

پاکستان میں کوویڈ 19 کی سخت پابندیوں کے دوران پٹرول کی کھپت میں اضافے کی طرح ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافے نے دنیا بھر کے ماہرین کو حیران کردیا ہے۔ ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے پاکستان کو پانچ بدترین متاثرہ ایشیائی معیشتوں میں شامل کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کی ترسیلات زر میں 27 فیصد تک کمی کا خدشہ ہے۔ تاہم ہوا اسکے برعکس جب جون اور جولائی کے مہینوں میں تاریخ کے ریکارڈ ترسیلات زر موصول ہوئے۔

اے ڈی بی اور ورلڈ بینک کے مطابق ترسیلات زر میں کمی کا خدشہ وقتی نہیں ہے کیونکہ لوگوں کی ملازمتیں ختم ہو رہی ہیں۔ دنیا بھر کی معیشتیں کورونا وائرس کے منفی اثرات کی لپیٹ میں ہیں، پاکستان میں ترسیلات زر کے لئے اہم وسیلہ رکھنے والے ممالک ، خاص طور پر تیل پیدا کرنے والے ممالک میں آمدنی سکڑ رہی ہے۔ اس تمام دشواریوں کے باوجود ملک میں، پیش گوئیاں اور تخمینے بہت مثبت ہیں ، اور ملکی ماہرین صرف رواں مالی سال کی ترسیلات زر میں معمولی کمی دیکھ رہے ہیں۔ کیونکہ ملک میں کویڈ 19 کے معاملات سنبھلتے دکھائی دیے رہے ہیں، اور معاشی سرگرمیاں بتدریج لوٹ رہی ہے اور اسکی وجہ لاک ڈاؤن کا مکمل طور پر خاتمہ ہے۔

جون کے مہینے میں سب سے زیادہ ترسیلات 2.47 بلین ڈالر کے بعد ، جولائی میں ترسیلات زر 2.77 بلین ڈالرز تک پہنچ گئی – جو سال بہ سال 36.5 فیصد اور ماہ بہ ماہ 12 فیصد زیادہ تھیں۔

عیدالاضحی میں جانوروں کی قربانی کے لیے ترسیلات زر میں اضافہ جہاں ایک معمول کی بات ہے ، وہاں چند سال بہ سال ہونے والی غیر معمولی عوامل کا اثر بھی ہے۔ ملک واپس آنے والے کارکنوں کے اپنے اداروں سے مالی تصفیوں کے نتیجے میں حاصل شدہ رقوم، وبائی مرض کے دوران بین الاقوامی پروازوں پر پابندیوں کے نتیجے میں حوالہ اور ہنڈی جیسے غیر رسمی چینلز کی رسمی بینکاری چینلز پر منتقلی، حالیہ تعمیراتی شعبے کی ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لئے بھیجی جانے والی رقوم اور مختلف ممالک میں لاک ڈاؤن میں آسانی کی وجہ سے ورکروں کی جمع شدہ رقوم کی ایک ساتھ ترسیلات جیسے عوامل شامل ہیں۔

، یہ دلیل بھی کے تارکین وطن اب مستقل واپس آ رہے ہیں قابل فہم معلوم ہوتا ہے کیونکہ تیل پیدا کرنے والے ممالک سے ان کی آمد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ خاص طور پرسعودی عرب سے ترسیلات زر میں سال بہ سال 74 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ تاہم، یہ بات یقینی ہے کہ ان ورکروں کی آمدن میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے۔ نہ ہی ان ممالک میں نوکری کے بازار میں کوئی مثبت سرگرمی ہوئی ہے۔ بہرحال، سفری پابندیاں ، اسٹیٹ بینک کی اپنی کوششیں اور سعودی عرب میں حج / عمرہ کی پابندیوں نے غیر رسمی منتقلی کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

ملکی سطح پر ترسیلات زر کے اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور دیگر جی سی سی ممالک سے ان کی آمد میں حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے۔ اور جولائی کے مہینے میں امریکہ سے ترسیلات زر میں نمایاں 22 فیصد کمی واقع ہوئی ہے ، جو اس سے پہلے مستحکم نمو کا مظاہرہ کررہا تھا۔

اس کے علاوہ اسٹیٹ بینک نے ملکی سطح پر کارکنوں کی ترسیلات زر کے ڈیٹا کو اکھٹا کرنے کے طریقہ کار کو بھی تبدیل کردیا ہے۔ اس سے قبل ماخذ ممالک سے آنے والی کچھ ترسیلات، کسی دوسرے ممالک کے زریعے بھیجی جاتی تھی اور راؤٹنگ کرنے والے ممالک کی ترسیلات میں ریکارڈ کی جارہی تھی۔ امریکہ اور ملائیشیا سے ترسیلات زر میں ان کا بہت بڑا حصہ تھا جہاں اہم ایکسچینج کمپنیوں کے ہیڈ آفس موجود ہیں۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button