ہماری طرح کئی اور عرب ممالک بھی اسرائیل سے معاہدہ کرنے کے مراحل میں ہیں: یو اے ای کا دعویٰ

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور انور قرقاش نے کہا ہے کہ دیگر کئی عرب ممالک بھی اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کے مختلف مراحل میں ہیں ۔
متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور انور قرقاش نے کہا ہے کہ دیگر کئی عرب ممالک بھی اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کے مختلف مراحل میں ہیں۔
ایک نیوز ایجنسی کے مطابق امریکی تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل سے ویڈیو لنک پر گفتگو کرتے ہوئے انور قرقاش نےکہا کہ متعدد عرب ممالک اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کے مختلف مراحل میں ہیں ۔ خطے کو اس سلسلے میں پیش رفت کی ضرورت ہے۔انور قرقاش کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے تعلقات گرم جوشی کے ساتھ آگے بڑھیں گے کیوں کہ اردن اور مصر کی طرح ہم نے کبھی اسرائیل سے کوئی جنگ نہیں لڑی۔
اماراتی وزیر کا کہنا تھا کہ اسرائیل میں سفارت خانہ یروشلم کے بجائے تل ابیب میں قائم کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ 2018ء میں امریکہ یروشلم پر اسرئیلی قبضے اور دعوے کو تسلیم کرکے اپنا سفارت خانہ وہاں منتقل کرچکا ہے۔ معاہدے والے دن یو اے ای نے کہا تھا کہ وہ اس وقت تک یروشلم میں سفارتخانہ نہیں کھولے گا جب تک کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن معاہدہ نہیں ہو جاتا۔
لیکن اب انور قرقاش نے تل ابیب میں سفارتخانہ کھولنے کی بات کہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی ہمیشہ یہودی آبادکاری کے مقابلے میں ہماری جانب مدد کے لئے دیکھتے تھے ہم نے اسرائیل کے اس اقدام کو روکنے کے لئے امریکی ثالثی کے ذریعےہونے والے معاہدے کو قیمتی موقعہ سمجھا۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے مابین ہونے والا یہ ایک مفید معاہدہ ہے۔
انور قرقاش کا کہنا تھا کہ امریکہ کی دونوں ہی اہم پارٹیوں کی جانب سے معاہدے کی حمایت کرنا یو اے ای کی حوصلہ افزائی ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ کی ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس معاہدے کو طے کروانے میں فعال کردار ادا کیا ہے جبکہ ان کے حریف ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے اس کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ نے کہا’’ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ اس ڈیل کے بعد ہماری امریکہ کے ساتھ تزویراتی شراکت داری میں مزید اضافہ ہوگا اور یہ مزید مضبوط ہوگی۔‘‘ ان کا اشارہ اسرائیل کے ساتھ تاریخی معاہدے کی طرف تھا۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گزشتہ جمعرات کو اس امن معاہدے کا خود اعلان کیا تھا۔
واضح ر ہے کہ 13 اگست کو اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین معمول کے سفارتی قیام کا معاہدہ طے پاچکا ہے جس کے بعد دونوں ممالک کی براہ راست فون سروس کا آغاز کردیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں سفارتی تعلقات سمیت دیگر شعبوں میں تعاون پر بھی اتفاق رائے ہوچکا ہے۔ نیز جلد ہی پروازوں کی آمدورفت کا سلسلہ شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
اس معاہدے پر مسلم دنیا میں ملا جلا ردعمل سامنے آٰیا ہے۔ ترکی ، ایران اور فلسطین نے اس کی کھل کر مخالفت کی ہے جبکہ سعودی عرب نے فلسطینیوں کے ساتھ کسی معاہدے کے بغیر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا امکان مسترد کردیا ہے۔
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان بھی اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا واضح اعلان کرچکے ہیں ۔ لیکن ایک روز قبل ہی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ جلد ہی سعودی عرب بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کر لے گا۔
دیکھا جائے تو انور قرقاش وہی کہہ رہے ہیں جس کا دعویٰ ٹرمپ کر چکے ہیں لیکن خود سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے اس بات کی تردید کی ہے۔ ادھر خود اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے بھی جلد ہی کئی عرب ممالک کے ساتھ اسرائیل کا معاہدہ ہو جانے کی امید ظاہر کی ہے۔ ویسے عرب ممالک میں سے کسی نے اب تک اس معاہدے کی مخالفت نہیں کی ہے۔







