ڈارک ویب پر بچوں کے استحصال کا مواد بنانے اور پھیلانے والا بین الاقوامی گروہ کا سرغنہ گرفتار

ملزم 2008 سے گھناؤنے جرائم میں ملوث تھا؛ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے انٹرپول کی اطلاع پر کارروائی کی
اسلام آباد/لاہور: پاکستان کی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے ایک بڑی بین الاقوامی کارروائی میں لاہور سے ایک ملزم کو گرفتار کیا ہے۔ اس ملزم پر ڈارک ویب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کے جنسی استحصال کے مواد (CSAM) کی تیاری، ملکیت اور تقسیم کے سنگین الزامات ہیں۔
دستاویزات کے مطابق، لاہور کے رہائشی اس ملزم کے خلاف فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (FIR) انٹرپول سے موصول ہونے والی مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر درج کی گئی ہے۔
بین الاقوامی تحقیقات اور گرفتاری
یہ کیس اس وقت سامنے آیا جب NCCIA CCRC اسلام آباد کے ٹیکنیکل اسسٹنٹ اور انٹرپول سے تصدیق شدہ ICSE صارف، انیس الرحمٰن نے ایک شکایت درج کرائی۔ شکایت میں بتایا گیا کہ اکتوبر 2024 میں سنگاپور میں منعقدہ "6th Victim Identification Task Force Asia” کے دوران، آسٹریلیا کی کوئنز لینڈ پولیس سروس کی قیادت میں کی گئی مشترکہ تحقیقات (آپریشن روہڈز اور آئس برگ) سے حاصل شدہ مواد کا تجزیہ کیا گیا۔
اس تجزیے سے "MYLOVEDLOLICON MYLOVEDMANGA” نامی صارف کی جانب سے پھیلائے گئے مواد کا انکشاف ہوا، جس میں کمسن بچیوں کے ساتھ زیادتی کی ویڈیوز شامل تھیں۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ صارف "رینبو” (Rainbow) نامی ایک خفیہ ڈارک نیٹ گروپ کا ایڈمنسٹریٹر تھا اور TorChat کے ذریعے بچوں کے استحصال کا مواد شیئر کرتا تھا۔ اسی نیٹ ورک سے منسلک دو مجرمان، "SASSY” (برازیل) اور "TWINKLE” (پرتگال) کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے، اور ان سے ملنے والے ڈیٹا نے انہیں اسی مواد سے جوڑ دیا۔
انٹیلی جنس رپورٹس بتاتی ہیں کہ "MYLOVEDLOLICON” ہی "رینبو” گروپ کا "BROWN” اور "Baby Heart” سائٹ کا "ABD CLOVER” نامی صارف ہے، جس پر اپنی دو کمسن بھتیجیوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا بھی شبہ ہے۔
ملزم کی شناخت اور ٹیکنیکل شواہد
شواہد سے ملزم کی ممکنہ رہائش ملتان میں اشرف مسجد کے قریب اور ایک سوزوکی کار (نمبر LRS 1540) سے اس کا تعلق ظاہر ہوا۔ انیس الرحمٰن کی جانب سے کی گئی OSINT اور سائبر جاسوسی کی بنیاد پر، مجرم کی شناخت لاہور کے رہائشی عاصم محمد قاسم کے نام سے ہوئی۔
NCMEC سائبر ٹپ لائن کا کردار اس کیس میں امریکی ادارے نیشنل سینٹر فار مسنگ اینڈ ایکسپلوئٹڈ چلڈرن (NCMEC) نے کلیدی کردار ادا کیا۔ NCMEC کی "سائبر ٹپ لائن” وہ مرکزی نظام ہے جہاں گوگل، فیس بک اور دیگر ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز پر CSAM مواد پائے جانے کی صورت میں قانونی طور پر رپورٹ کرنے کی پابند ہیں۔
انکوائری کے دوران، انٹرپول چینلز کے ذریعے NCMEC کی سائبر ٹپ لائن رپورٹس نمبر 127256581، 127263110، اور 127817783 موصول ہوئیں۔ ان رپورٹس سے شناخت ہوئی کہ گوگل اکاؤنٹ "[email protected]”، جو 16 مارچ 2022 کو ملک عاصم کے نام پر ایک پاکستانی موبائل نمبر (+923036148987) سے تصدیق شدہ تھا، اور اس سے منسلک واٹس ایپ اکاؤنٹ، CSAM مواد کی تیاری، ملکیت اور تقسیم میں ملوث تھے۔
گھناؤنے جرائم اور قانونی کارروائی
شواہد سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ ملزم عاصم محمد قاسم 2008 سے 2022 تک مسلسل کمسن بچوں کی جنسی گرومنگ (sexual grooming)، CSAM کی تیاری، اور بچوں کے تجارتی جنسی استحصال میں ملوث رہا۔ ملزم خاص طور پر ڈارک ویب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فعال تھا۔ اب تک اس کیس میں سات کمسن متاثرین کی شناخت ہو چکی ہے۔
انکوائری کے دوران ملزم کے قبضے سے وہ ڈیجیٹل آلات بھی برآمد کر لیے گئے جو ان جرائم میں استعمال ہوتے تھے۔
NCCIA: پاکستان کا نیا سائبر کرائم ادارہ واضح رہے کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) مئی 2024 میں قائم کی گئی ایک نئی اور خصوصی ایجنسی ہے، جس نے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) کے سائبر کرائم ونگ کی جگہ لی ہے۔ اس ادارے کا مقصد خاص طور پر بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل اور سائبر جرائم سے نمٹنا ہے۔
ملزم عاصم محمد قاسم کے خلاف ناقابل تردید ڈیجیٹل اور دستاویزی ثبوت اکٹھے کر لیے گئے ہیں۔ اس پر پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) 2016 کی دفعات 21، 22A، اور 28، کے ساتھ ساتھ تعزیرات پاکستان (PPC) کی دفعہ 377 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
PECA 2016 کی متعلقہ دفعات کیا ہیں؟
- دفعہ 21: یہ دفعہ کسی بھی شخص اور خاص طور پر کسی نابالغ کی عزت اور حیا کے خلاف آن لائن مواد (جیسے تصاویر یا ویڈیوز) کی نمائش یا ترسیل سے متعلق جرائم سے نمٹتی ہے۔
- دفعہ 22A: یہ دفعہ خاص طور پر "آن لائن گرومنگ” سے متعلق ہے، یعنی کسی نابالغ کو جنسی استحصال کے لیے آن لائن ورغلانا، اس سے تعلق استوار کرنا، یا جنسی مواد کا تبادلہ کرنا۔
- دفعہ 28: یہ دفعہ NCCIA کو غیر قانونی الیکٹرانک مواد کو ہٹانے یا بلاک کرنے کا اختیار دیتی ہے۔
- تعزیرات پاکستان 377: یہ دفعہ "خلاف وضع فطری جرائم” سے متعلق ہے، جسے اکثر جنسی زیادتی کے معاملات میں لاگو کیا جاتا ہے۔
مجاز اتھارٹی نے ملزم کے خلاف مقدمہ بننے پر FIR کے اندراج کی اجازت دے دی ہے۔ مزید تفتیش جاری ہے جس میں ملوث دیگر افراد کا کردار، مزید متاثرین کی شناخت، اور اضافی ثبوت اکٹھے کیے جائیں گے۔

