سعودی عرب میں غیرملکی کارکنوں کے بقایا جات کی انشورنس اسکیم منظور

سعودی حکومت نے نجی اداروں میں کام کرنے والے غیرملکی ملازمین کے بقایا جات کی ادائیگی کے لیے انشورنس اسکیم کی منظوری دی ہے۔
وزیر افرادی قوت و سماجی بہبود انجینیئر احمد الراجحی نے بتایا ہے کہ ’شاہ سلمان نے نجی اداروں کے غیرملکی ملازمین کے حقوق و بقایا جات کے لیے انشورنس اسکیم کی منظوری دی ہے۔ اس اسکیم پر عملدرآمد کے جملہ اخراجات سعودی حکومت برداشت کرے گی۔’
سبق ویب سائٹ کے مطابق الراجحی نے اس اسکیم کی منظوری پر شاہ سلمان اور ولی عہد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘اسکیم کی بدولت نجی اداروں میں غیرملکی ملازمین کے معطل حقوق اور بقایا جات کا مسئلہ ٹھوس بنیاد پر حل ہوجائے گا۔’

الراجحی نے بتایا کہ اس اسکیم کی بدولت سعودی عرب کے نجی اداروں میں غیرملکی ملازمین کے حقوق کو تحفظ حاصل ہوگا۔
اگر خدانخواستہ کسی غیرملکی ملازم کےحقوق اور بقایا جات کو خطرہ لاحق ہوا تو اس انشورنس اسکیم کے باعث اول تو خطرات کا خاتمہ ہوجائے گا یا کم ازکم خطرات کا دائرہ بے حد محدود ہوجائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ سعودی قیادت کی خواہش تھی اور ہے کہ نجی ادارے ملک و قوم کی صلاح و فلاح اور تعمیر و ترقی میں کلیدی کردارادا کریں اور درپیش مسائل سے نجات حاصل کریں۔
وزیر افرادی قوت کا کہنا تھا کہ سعودی کابینہ نے انشورنس اسکیم کی منظوری کے ساتھ ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جو وزارت افرادی قوت و سماجی بہبود، وزارت خزانہ اور سعودی عریبین مانیٹری اتھارٹی (ساما) کے نمائندوں پر مشتمل ہوگی۔
کمیٹی نجی اداروں میں ان غیرملکی ملازمین کے زمروں کا تعین کرے گی جن پر مبینہ انشورنس اسکیم لاگو ہوگی۔
کمیٹی انشورنس اسکیم پر عمل درآمد کے قاعدے، ضابطے اور طریقہ کار ترتیب دے گی اور انشورنس پالیسی کی فیس متعین کرے گی۔







