کیا رضوان نے سرفراز کا ٹیسٹ کیریئر ختم کردیا ہے؟

محمد رضوان نے ساؤتھیمپٹن کے مشکل حالات میں انگلینڈ کے خلاف میچ میں اپنی وکٹ کیپر بیٹسمین کی حیثیت کو پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم میں پکا کیا ہے۔ اورکیا یہ سرفراز احمد کے ٹیسٹ کیریئر کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا؟
بطور وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان نے سرفراز احمد کے سائے میں اپنی باری آنے کا کافی انتظار کیا۔
28 سالہ نوجوان نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز نومبر 2016 میں نیوزی لینڈ کے خلاف بیٹسمین کے طور پر کیا تھا جہاں وہ پہلی اننگ کے پہلی ہی گیند پر آؤٹ ہوگئے تھے اور دوسری اننگز میں 13 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے تھے۔ دوسری جانب ، سرفراز احمد ، جو وکٹ کیپربیٹسمین کی حیثیت سے کھیل رہے تھے، انہوں نے اس ہارے ہوئے میچ میں 41 اور 19 رن بنائے۔
آئیں ایک نظر دونوں کرکٹرز کے ٹیسٹ کیرئیرکے اعداد و شمار پر ڈالیں:

موجودہ سیریز کے دوسرے میچ کو چھوڑ کر وکٹ کیپر بلے باز کی حیثیت سے اپنے پہلے چھ ٹیسٹ میچوں میں رضوان کی بیٹنگ اوسط (31.00) رہی جو صرف راشد لطیف اوسط 47.66 سے پیچھے ہے۔
رضوان کی وکٹ کیپنگ کوبھی انگلش مبصرین کی طرف سے سراہا گیا کہ انھوں نے انگلینڈ کے مشکل حالات کے باوجود کافی شاندار صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔
جب بات کیچ پکڑنے کی کامیابی کے شرح کی آتی ہے تو، محمد رضوان نے وکٹ کیپر کی حیثیت سے اپنے پہلے 6 ٹیسٹ میچوں میں 95 فیصد کامیابی کے ساتھ سرفہرست ہیں۔ آسٹریلوی کپتان ٹائم پین (93٪) ان سے تھوڑا ہی پیچھے ہیں۔
محمد رضوان کی ساؤتھیمپٹن کی ٹیسٹ اننگز ایک شاندار اننگز تھی۔ انہوں نے پاکستان کے لئے اپنے بلے کے ساتھ مفید رنز بنائے جب ان کا ساتھ دینے کے لیے صرف ٹیل اینڈرزموجود تھے۔
اگر اس بات کا جائزہ لیں کے سرفراز احمد کو بطور کپتان اور بلے باز کیوں ٹیم سے برخاست کیا گیا تو 2018 سے ، سابق کپتان نے 11 میچوں میں 24.94 کی اوسط اور 94 کے ہائی اسکور کے ساتھ مجموعی 449 رنز بنائے۔ بحیثیت کپتان خراب نتائج کے ساتھ ساتھ ان کی ناقص بیٹنگ فارم نے انہیں ٹیم سے باہر کردیا۔
محمد رضوان بحیثیت وکٹ کیپراور بلے باز اس وقت پاکستان کے اولین چوائس ہیں۔ اورسرفراز کے لیے ٹیم مینجمنٹ کے پاس واحد آپشن یہ ہے کہ ان کو خالصتاً ایک بلے باز کی حیثیت سے ٹیم میں شامل کیا جائے۔ لیکن کیا ٹیم مینجمنٹ ان کو اس حیثیت سے پلیئر الیون میں شامل کرے گی؟
شان مسعود اور عابد علی یا امام الحق اوپنر کے طور پر اور اظہر علی ، بابر اعظم ، اسد شفیق ، اور حارث سہیل یا فواد عالم کو مڈل آرڈر بلے باز کے طور پر، سرفراز احمد کے کے لئے شاید ہی اب کوئی جگہ موجود ہو۔ ان کا شاندار 70.98 اسٹرائیک ریٹ ایک اچھا وجہ انتخاب ہو سکتا ہے، تاہم ، اس کے لئے کس کو ٹیم سے ڈراپ کیا جائے، سب سے اہم سوال ہے۔
اسد شفیق کی کارکردگی پچھلے کچھ میچز میں ناقص رہی ہے اور اظہر علی کی صورتحال بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ تاہم ، اظہر ٹیم کے کپتان ہیں اور ان کے ڈراپ ہونے کے امکانات تقریباً نہیں کے ہیں۔ اگر ٹیم مینجمنٹ اسد کو ڈراپ کردیتا ہے تو، حارث سہیل ٹیم میں واپس آجائے گا اور 6 نمبر پر فواد عالم کا قبضہ ہوجائے گا ، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ فواد نے 2009 میں نیوزی لینڈ کے خلاف اپنے آخری ٹیسٹ میچ کے بعد سے فرسٹ کلاس میچز میں رنز کے انبار لگا دیے ہیں۔
سرفراز نے ٹیم سے باہر ہونےکے بعد اپنی فٹنس کے ساتھ ساتھ اپنی بیٹنگ میں بھی بہتری ضرورلائی ہے، اور ڈومیسٹک کرکٹ میں بھی رنز کے ڈھیر لگانے ہیں۔ پاکستان انگلینڈ ٹیسٹ میں ٹیم میں ان کی بحیثیت بلے باز شمولیت کی باتیں بھی ہوئیں، تاہم فواد عالم کو بجا طور پر ان پر ترجیح دی گئی۔
آئیے فرسٹ کلاس کرکٹ میں سرفراز احمد سمیت مڈل آرڈر بیٹسمینوں کی بیٹنگ نمبروں کا موازنہ کریں:

اس سے قبل رمیز راجہ نے سرفراز سے کہا تھا کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لینے پر غور کریں اور محدود اوورز کی کرکٹ پر توجہ دیں کیونکہ انہیں محمد رضوان کی موجودگی میں موقع ملنے کا امکان نہیں ہے۔
کیا آپ کو لگتا ہے کہ سرفراز کوٹیسٹ میچز میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کا ایک اور موقع ملے گا؟
اس پر تبصرہ کریں۔







