امریکہ میں گھر بیٹھے کورونا کی تشخیص کیلئے نئی ٹیسٹنگ کٹ متعارف

کورونا وائرس کی وجہ سے اب تک دنیا میں 8 لاکھ 30 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ کورونا سے نمٹنے کے لئے موثر علاج ویکسین کے ساتھ ساتھ جانچ کے نئے طریقے بھی مختلف ممالک میں تلاش کئےجارہے ہیں۔
واضح رہے کہ زیادہ جانچ کئے جانے کو کورونا سے نمٹنے کا ایک موثر طریقہ قرار دیا جارہا ہے۔ ایسے میں اب امریکہ نے ایک نئی ٹیسٹنگ کٹ کی منظوری دے دی ہے جس کے ذریعےعام لوگ خود گھر بیٹھے اپنا ٹیسٹ کرواسکتے ہیں۔
اگر کسی میں کورونا کی علامات ہیں تو وہ اس نئی ٹیسٹنگ کٹ کے ذریعے اپنے تھوک کے نمونے جانچ لیباریٹری بھیج کر انفیکشن کا پتہ لگا سکیں گے۔
یہ نئی ٹیسٹنگ کٹ روٹگرز لیب آر یو سی ڈی آر انفائینائٹس بائلوجکس ،ا سپیکٹرم سلوشنز اور ایکوریٹ ڈائگنوسٹک کے ذریعہ تیار کی گئی ہے۔
یو ایس ایف ڈی اے کے کمشنر اسٹیفن ہان کے مطابق اس نئے طریقہ کار سے کورونا کی ٹیسٹنگ کو کافی رفتار ملے گی اور ساتھ ہی امریکہ کو درپیش ٹیسٹنگ کٹس کی کمی کے مسئلے سے بھی نجات ملے گی۔
ماہرین کے مطابق ایسا کرنے سے روزانہ ٹیسٹنگ میں 20 سے 30 ہزار کا اضافہ ہوسکتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق کورونا جانچ کے لئے نمونے دینے کے لئے لیبز کے باہر لوگوں ہجوم میں اس کٹ کے ذریعے کمی آئے گی۔
اس سے انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکا جاسکتا ہے۔ کچھ ماہرین نے اس کٹ کے نتائج آنے میں معمول سے زیادہ وقت لگنے کا اندیشہ ظاہرکیا ہے۔ اس کے باوجود اس نئی ٹیسٹنگ کٹ نے عام شہریوں کوایک نئی امید ضرور بخشی ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق پہلے جو ٹیسٹ کئےجارہے تھے اس کی قیمت کی حد 35 سے50 ڈالر ہے لیکن اس کٹ کی قیمت 100 امریکی ڈالر مقرر کی گئی ہے۔
کورونا کے تباہی اور مالی بحران میں یہ عام شہری کے لئے ایک بڑی رقم ہے۔ امید ہے اس قیمت کم کی جائے گی۔
واضح رہے کہ امریکہ میں کورونا متاثرین کی تعداد میں روز بروز تشویشناک طور پر اضافہ درج کیا جارہا







