معیشت اور کاروبار

پاکستان میں مہنگائی کی شرح ایک سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

خلاصہ: اکتوبر 2025 میں سالانہ افراط زر 6.2 فیصد ریکارڈ کیا گیا، دیہی علاقوں میں مہنگائی کی شدت شہریوں سے زیادہ رہی۔ بنیادی افراط زر میں اضافہ تشویشناک ہے۔

اسلام آباد: پاکستان کے ادارہ شماریات (پی بی ایس) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار نے ملک میں مہنگائی کے دباؤ میں ایک بار پھر اضافے کی نشاندہی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اکتوبر 2025 میں سالانہ بنیادوں (سال بہ سال) پر افراط زر (CPI) کی شرح 6.2 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

یہ شرح نہ صرف گزشتہ ماہ (ستمبر 2025) کے 5.6 فیصد کے مقابلے میں زیادہ ہے، بلکہ عارف حبیب لمیٹڈ (AHL) کے تجزیے کے مطابق، یہ اکتوبر 2024 کے بعد مہنگائی کی بلند ترین سطح بھی ہے۔

تاہم، اگر گزشتہ سال اسی مہینے سے موازنہ کیا جائے تو مہنگائی قدرے کم ہے، کیونکہ اکتوبر 2024 میں یہ شرح 7.2 فیصد تھی۔

ماہانہ بنیادوں (ماہ بہ ماہ) پر، یعنی ستمبر 2025 کے مقابلے میں اکتوبر 2025 میں، اشیائے خورونوش اور دیگر ضروریات کی قیمتوں میں 1.8 فیصداضافہ ہوا۔ اگرچہ یہ اضافہ ستمبر کے 2.0 فیصد اضافے کے مقابلے میں تھوڑا کم ہے، لیکن یہ ظاہر کرتا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کا رجحان مسلسل برقرار ہے۔


شہری بمقابلہ دیہی مہنگائی: واضح تفریق

تازہ ترین اعداد و شمار میں سب سے تشویشناک پہلو شہری اور دیہی علاقوں میں مہنگائی کا بڑھتا ہوا فرق ہے۔

  • شہری افراط زر: شہروں میں سالانہ مہنگائی کی شرح 6.0 فیصد رہی، جو گزشتہ ماہ 5.5 فیصد تھی۔
  • دیہی افراط زر: اس کے برعکس، دیہی علاقوں میں مہنگائی کی شرح 6.6 فیصد تک پہنچ گئی، جو گزشتہ ماہ 5.8 فیصد تھی۔

یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ دیہی آبادی، جو پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہے، مہنگائی کی چکی میں زیادہ پس رہی ہے۔ اس کی بڑی وجوہات میں عام طور پر کمزور سپلائی چین، نقل و حمل کے زیادہ اخراجات، اور ضروری اشیاء تک محدود رسائی شامل ہیں۔


تاریخی تناظر: ہم بحران سے کتنے دور ہیں؟

موجودہ 6.2 فیصد کی شرح کو سمجھنے کے لیے پاکستان کے حالیہ معاشی ماضی پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔

  • انتہائی بحران کا دور (2023-24): پاکستان نے 2023 اور 2024 کے اوائل میں اپنی تاریخ کی بدترین مہنگائی کا سامنا کیا، جب مئی 2023 میں افراط زر کی شرح 38 فیصد کی تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔ یہ بحران آئی ایم ایف کی سخت شرائط، روپے کی قدر میں ریکارڈ کمی، اور عالمی منڈی میں اجناس کی قیمتوں میں اضافے کا نتیجہ تھا۔
  • بیس ایفیکٹ (Base Effect): اس بحران کے بعد، مہنگائی کی شرح میں ڈرامائی کمی دیکھنے میں آئی۔ اب، اکتوبر 2025 میں 6.2 فیصد کی شرح کا موازنہ اکتوبر 2024 کے 7.2 فیصد سے کیا جا رہا ہے (جو خود ایک بلند سطح تھی)۔ اسے معاشی اصطلاح میں "بیس ایفیکٹ” کہتے ہیں۔
  • موجودہ رجحان: اگرچہ 6.2 فیصد کی شرح پچھلے دو سالوں کے مقابلے میں بہت کم ہے، لیکن یہ گزشتہ 12 مہینوں میں سب سے زیادہ ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قیمتوں میں استحکام کے بعد اب مہنگائی کا دباؤ دوبارہ بڑھنا شروع ہو گیا ہے۔

دلچسپ حقائق اور بنیادی افراط زر کا مفہوم

مہنگائی کو سمجھنے کے لیے صرف ایک عدد (CPI) کافی نہیں ہوتا۔ اس کے دیگر اشاریے زیادہ گہری تصویر پیش کرتے ہیں:

1. بنیادی افراط زر (Core Inflation) – اصل تشویش

بنیادی افراط زر میں خوراک اور توانائی (پیٹرول، بجلی) جیسی غیر مستحکم اشیاء کو نکال دیا جاتا ہے۔ یہ مہنگائی کا وہ پیمانہ ہے جسے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) شرح سود کے فیصلے کے لیے سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے۔

  • شہری بنیادی افراط زر: اکتوبر میں بڑھ کر 7.5 فیصد ہو گیا (گزشتہ ماہ 7.0 فیصد)۔
  • دیہی بنیادی افراط زر: بڑھ کر 8.4 فیصد ہو گیا (گزشتہ ماہ 7.8 فیصد)۔

تجزیہ: یہ سب سے تشویشناک پہلو ہے۔ جب بنیادی افراط زر (جو 7.5% سے 8.4% ہے) عمومی افراط زر (جو 6.2% ہے) سے زیادہ ہو، تو اس کا مطلب ہے کہ مہنگائی صرف سبزیوں یا پیٹرول تک محدود نہیں رہی، بلکہ معیشت کی رگوں میں سرایت کر گئی ہے (جیسے مکان کا کرایہ، تعلیم، اور صحت)۔ اس رجحان کے باعث اسٹیٹ بینک پر شرح سود کو بلند رکھنے یا مزید بڑھانے کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

2. دیگر اہم اشاریے (SPI اور WPI)

  • حساس اشاریہ (SPI): یہ کم آمدنی والے طبقے کی استعمال کی 51 ضروری اشیاء (آٹا، چینی، دالیں) پر نظر رکھتا ہے۔ اس میں سالانہ 4.8 فیصد اضافہ ہوا۔
  • تھوک قیمتوں کا اشاریہ (WPI): یہ وہ قیمت ہے جو فیکٹری یا مینوفیکچرر وصول کرتا ہے۔ اس میں صرف 1.1 فیصد کا معمولی سالانہ اضافہ ہوا۔

تجزیہ: WPI کا کم رہنا ایک مثبت علامت ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پیداواری لاگت (Manufacturing Cost) ابھی قابو میں ہے، جو مستقبل میں مہنگائی میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔ تاہم، اس کا فائدہ صارفین تک پہنچنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

مجموعی جائزہ

اگرچہ پاکستان اس وقت 2023 جیسے ہائپر انفلیشن کے بحران میں نہیں ہے، لیکن اکتوبر 2025 کے اعداد و شمار خطرے کی گھنٹی ضرور ہیں۔ ایک سال کی بلند ترین سطح پر پہنچنا، خاص طور پر دیہی علاقوں اور بنیادی افراط زر میں مسلسل اضافہ، پالیسی سازوں اور عام آدمی، دونوں کے لیے آئندہ مہینوں میں نئے چیلنجز کی نشاندہی کر رہا ہے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button