فن اور فنکار

کم کارڈیشین قانون کے امتحان میں ناکام: "چیٹ جی پی ٹی نے غلط جوابات دے کر مجھے فیل کروا دیا”

رئیلٹی اسٹار نے ‘وینٹی فیئر’ کو انٹرویو دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ وہ امتحان کی تیاری کے لیے AI پر انحصار کرتی تھیں

نیویارک: معروف امریکی رئیلٹی ٹی وی اسٹار اور بزنس وومن کم کارڈیشین نے حال ہی میں انکشاف کیا ہے کہ وہ قانون کے ایک امتحان میں ناکام ہو گئی ہیں، اور انہوں نے اپنی اس ناکامی کا ذمہ دار بڑی حد تک مصنوعی ذہانت (AI) کے مشہور ٹول ‘چیٹ جی پی ٹی’ کو ٹھہرایا ہے۔

جریدے ‘وینٹی فیئر’ (Vanity Fair) کے ساتھ ایک لائی ڈیٹیکٹر سیشن کے دوران، انہوں نے کھلے عام اعتراف کیا کہ وہ قانونی سوالات اور امتحان کی تیاری کے لیے کثرت سے اس AI چیٹ بوٹ کا استعمال کرتی رہیں۔ تاہم، ان کا کہنا ہے کہ انہیں اکثر غلط جوابات موصول ہوئے، جو بالآخر ان کے ٹیسٹ میں غلطیوں کا باعث بنے۔

انٹرویو کے دوران، کم کارڈیشین نے مزاحاً چیٹ جی پی ٹی کو اپنا "frenemy” (دوست نما دشمن) قرار دیا، جو ٹیکنالوجی پر ان کے انحصار اور اس سے ہونے والی مایوسی کے ملے جلے جذبات کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے واضح کہا کہ چیٹ بوٹ نے "مجھے ہر وقت ٹیسٹ میں فیل کروایا،” جو تعلیمی مقاصد کے لیے AI کے استعمال میں درپیش چیلنجوں پر ان کا مزاحیہ لیکن ایماندارانہ ردعمل ہے۔

AI پر انحصار اور عالمی بحث

کم کارڈیشین کے اس اعتراف نے آن لائن ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا مصنوعی ذہانت کے ٹولز، خاص طور پر قانون جیسے پیچیدہ شعبوں میں، قابل اعتبار ہیں یا نہیں۔

عالمی سطح پر ماہرینِ قانون اور ٹیکنالوجی کے تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ AI ٹولز، بشمول چیٹ جی پی ٹی، بعض اوقات "AI Hallucinations” (مصنوعی ذہانت کا فریب) کا شکار ہو سکتے ہیں، جس میں وہ مکمل اعتماد کے ساتھ غلط یا من گھڑت معلومات فراہم کرتے ہیں۔ قانون کا شعبہ، جہاں قوانین اور نظیروں (precedents) کی درستگی پر سب کچھ منحصر ہوتا ہے، وہاں ایسی غلط معلومات تباہ کن ثابت ہو سکتی ہیں۔

یہ واقعہ تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی بھی عکاسی کرتا ہے۔

کم کارڈیشین کا قانونی سفر

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ کم کارڈیشین ایک روایتی لاء اسکول جانے کے بجائے کیلیفورنیا میں ‘اپرنٹس شپ’ (شاگردی) پروگرام کے تحت قانون کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ انہیں اس سے قبل بھی "بے بی بار” (First-Year Law Students’ Examination) کے امتحان میں کئی بار ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا، جسے انہوں نے بالآخر 2021 میں چوتھی کوشش میں پاس کیا تھا۔

ان کی حالیہ ناکامی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ اپنے قانونی سفر کے اگلے، زیادہ مشکل، مراحل میں اب بھی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہیں۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

رئیلٹی اسٹار کے اس بیان پر سوشل میڈیا صارفین اور ان کے مداحوں کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ بعض لوگ ان کی جدوجہد سے ہمدردی کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ دیگر اس بات کی نشاند دہی کر رہے ہیں کہ AI سے حاصل کردہ معلومات کی تصدیق کرنا اور صرف مستند ذرائع پر انحصار کرنا کتنا ضروری ہے۔

بہر حال، کم کارڈیشین کی صاف گوئی نے تعلیمی اور پیشہ ورانہ شعبوں میں AI کے استعمال کے فوائد و نقصانات کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے، اور اس بات پر زور دیا ہے کہ تکنیکی مدد کے ساتھ ساتھ تنقیدی سوچ (critical thinking) کی اہمیت اب بھی برقرار ہے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button