بولتے الفاظ: طاﺅس و رباب اوّل شمشیر و سناں آخر

کشمیری بہن بھائیوں سے اظہار یکجہتی کا ایک اور دن آگیا اور گذر جائے گا۔ پوری پاکستانی قوم نے یکجا اور یک زبان ہو کر اہل کشمیر کی قربانیوں کو خراج عقیدت بھی پیش کیا اور بھارت کے جبر ناروا کی مذمت بھی کی۔
اللہ غریق رحمت کرے جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد مرحوم کو جن کی خواہش اور کوشش کے باعث 1990سے ہر سال 5 فروری کو منانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ مسئلہ کشمیر کا حل چاہنے والوں اور اس کی خاطر تن من دھن کی بازی لگانے والوں میں سے کتنے ایسے ہیں جن کو کلی طور پر اس مسئلہ کی جزئیات کا علم ہے اور پھر کتنے لوگ ہیں جن کو اس اہم ترین مسئلہ کا پس منظر اور موجودہ اسٹیٹس کا علم ہے۔ بس ایک ہی بات ہے کہ بطور مسلمان اور بطور پاکستانی خطہ کشمیر کیساتھ ہماری جذباتی وابستگی ہے، یہ وابستگی دلی جذبات کے ذریعے ہماری روح تک سرائیت کر چکی ہے۔
اس مرتبہ یوم استحصال کشمیر کے موقع پر بعض ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا کی بھر پور مہم کے نتیجے میں ایسے ایسے مناظر دیکھنے کو ملے کہ پاکستانی قوم کا بچہ بچہ یہ کہہ رہا ہے کشمیر ہمارا ہے، سارے کا سارا ہے۔ کشمیریوں کی تین یا چار نسلیں بھارت کے ناجائز تسلط کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں وہ ہر نئی صبح اُٹھ کر پاکستانی سرحدوں اور افواج پاکستان کے جری بہادر دستوں کو منتظر نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ یہ امید اور توقع کا رشتہ ہے جو کسی بھی وابستگی سے بڑھ کر ہوتا ہے۔ یہ بات اپنی جگہ درست اور تلخ حقیقت ہے کہ بھارت کا کشمیر پر غاصبانہ قبضہ ظلم و جبر کی انوکھی داستان ہے جس کی مثال دنیا بھر کا کوئی خطہ نہ دے سکا ہے اور نہ ہی کسی نے اس کے قابل عمل حل کیلئے سنجیدگی دکھائی ہے۔
بھارت کی موجودہ درندہ صفت قیادت نے گذشتہ 72 سال کی تمام حدوں سے تجاوز کرتے ہوئے اگست 2019 سے لیکر اب تک جو کچھ کیا ہے اسے کہنا سننا یا بیان کرنا خاصامشکل لگ رہا ہے۔ 365 دن گذر چکے ہر نئے دن کا سورج اہل کشمیر کیلئے نئی صف ماتم کا پیغام لے کر آتا ہے، میرا آج کا کالم کشمیریوں کی حالت زار پر نوحہ خوانی کی بجائے اپنے رویوں پر نظر ثانی کے متعلق ہے۔
ہم نے بھارتی ظلم ،جبر اور استبداد کا شکار اہل کشمیر کیساتھ اظہار یکجہتی کرنے کیلئے ایک دن منانے کا کٹھن کام جو اپنے ذمہ لے رکھا ہے اس سے ہم 5 اگست کو کچھ اس طرح عہدہ برا ہوئے کہ پاکستان کی ہر شاہراہ اور ہر جلسہ گاہ آلات موسیقی کی گھن گرج سے گونج رہی ہے۔ ہر اسٹیج سے ڈی جے کے ذریعے دشمن کو للکارا جا رہا ہے، جنگی ترانوں کی لے اور نت نئے نغموں کے سُروں کے ذریعے کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کے آگے بند باندھنے کی بھر پور کوشش کی جارہی ہے۔ اور تو اور ہمارے مضبوط اور نا قابل تسخیر دفاع کے رکھوالوں نے بھی اپنا حصہ کچھ یوں ڈالا کہ اس اہم دن کی مناسبت سے نیا نغمہ ریلیز کیا گیا۔ اس کے بول دل کو دہلا دینے والے ہیں، دشمن کے سینے پر دھاک اور دبدبہ طاری کر دینے والے ہیں۔ کشمیر کے گلی کوچوں اور سرینگر کے لال چوک میں موجود ننھے منے مجاہدوں سے لیکر نوجوان غازیان اسلام تک ، باپردہ ، باہمت و عصمت مآب خواتین سے لیکر پُر عزم بوڑھوں تک سب بھارتی بزدل فوجیوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انکے گھمنڈ کو خاک آلود کر رہے ہیں۔ جواب میں ان بزدلوں کی کمزور بندوقوں کی تڑتڑاہٹ گولیوں سے نہتے کشمیریوں کے جسموں کو خون آلود کر رہی ہیں، جبکہ دوسری طرف ہمارے بچے بوڑھے جوان، مرد و زن سب جھوم جھوم کر گاگا کر بھارتی فوج کو ان الفاظ میں اپنا پیغام پہنچا رہے تھے
انڈیا جا جا کشمیر سے نکل جا انڈیا جاجا کشمیر سے نکل جا
یہ کیسی دھمکی ہے، یہ کیسی للکار ہے، یہ کیسا غصیلا جواب ہے جو ایک قہر زدہ قوم کی حمایت میں قہر ڈھانے والے دشمن کو دیا جا رہا ہے۔ وہ جو ہمارے ہر طرح کے طمطراق کو دیکھنے کے باوجود ٹس سے مس نہیں ہو رہا وہ اس سماجت نما پکار کو کب سنے گا۔ یہ مقام غور اور مقام فکر ہے سوچنے والوں کیلئے وہ جائزہ لیں کہ من حیث القوم ہماری آواز اور کشمیر کے بارے ہمارے موقف، ہمارے بیانیے میں کتنی جان ہے؟ہماری توجہ اور ترجیح کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کشمیر کے مسئلہ پر پاکستان اور بھارت کے مابین ثالثی کی پیشکش کرتا ہے، یہ ثالثی اور اس کا نتیجہ کتنا بھیانک ہوتا اس کی تو نوبت ہی نہ آئی البتہ ہمارے ملک کے وزیر اعظم صاحب وہیں امریکہ میں جلسہ عام منعقد کر کے اپنے سیاسی مخالف قیدی رہنما کی بیرک سے اے سی اتروانے اور مزید مزہ چکھانے کا اعلان کرتے ہیں، حالانکہ یہ کار خیر واپس اپنے ملک آکر ایک میٹنگ میں بھی انجام دیا جا سکتا تھا یا اس کیلئے صرف ایک حکمنامہ ہی کافی ہوتا۔
عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کیلئے ہم کچھ کر سکے یا نہیں کی بات پھر کبھی فی الحال اپنے ملک کی سطح پر جائزہ لے لیجئے کیا ہم تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر سکے، یا اس کی کوشش بھی کی۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کیا ہوا، بیرونی دنیا میں سفارتکاری کتنی کامیاب رہی، آزاد کشمیر کے منتخب وزیراعظم کے شکوے اور تحفظات اپنی جگہ، اس مرتبہ کے یوم استحصال کا احوال ہی سُن لیجئے لاہور شہر کا ایک مال روڈ اور اس پر مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں نے ایک دوسرے کے خلاف بول بول کر جگہ جگہ علیحدہ علیحدہ یکجہتی کا بے مثال مظاہرہ کیا ۔ اس سے قابض، غاصب بھارت کو یا بین الاقوامی سطح پر کیا پیغام گیا ہو گا اس کو چھوڑیئے یہ سوچئے بے چارے کشمیریوں کو تقسیم در تقسیم اور کھینچا تانی میں مصروف پاکستانی عوام کی اس نام نہاد یکجہتی سے کیا ملے گا۔ معاف کیجئے گا یہ دن ناچ گانے کا دن تھا نہ کہ یکجہتی کا دن۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ ہمارا قومی مزاج اپنے اسلاف کی دی ہوئی لائن سے بھٹک چکا ہے ہم گم گشتہ راہوں کے مسافر بن چکے ہیں ہم نے تقدیر امم کی ترتیب کو ہی بدل ڈالا ہے، اب تو اپنا حق مانگنا ہو، اپنی شہ رگ کو دشمن کے پنجہ استبداد سے چھڑوانا ہویا معرکہ حق و باطل در پیش ہو پاکستانی قوم تو فیصلہ کر چکی ہے
طاﺅس و رباب اول شمشیر و سناں آخر







