کالمز اور مضامین

عالمی وباء کے دوران والدین کا کردار

عید الاضحیٰ کے پانچویں روز اسکول والوں نے تمام اساتذہ اور دیگر عملہ کے لیے ضیافت کا اہتمام کیا تھا مجھے بھی دعوت دی گٸی میں بہت خوشی اور نٸی ترنگ سے اسکول گیا لیکن مجھے نہیں معلوم تھا کہ آنے والا وقت دل میں اتری ترنگ پر کسلمندی اور بے زاریت کا رنگ چڑھا دے گا۔  یہ انسان کی فطرت ہے جس جگہ اُس نے وقت گزارا ہو اگر وہاں سے گزر رہا ہو یا بے اختیار نظر پڑ جائے تو لمحہ بھر کو سوچ میں پڑ جاتا ہے میں تو کبھی اپنے اسکول والے راستے سے گزروں تو عمارت کو مختلف زاویوں سے دیکھتا ہوں عمارت میں آٸی تبدیلیوں پہ غور کرتا ہوں کیوں نہ کروں؟ میں نے زندگی کا ایک سنہرا دور ان دیواروں ،راہداریوں اور میدان کے درمیان گزارا ہے۔ قصّہ مختصر آج جب میں اسکول پہنچا اور کسی کام سے دوسری منزل پہ  تعمیر جماعت ہفتم میں گیا تو دل پر عجیب سی ویرانی چھاگئی ایک دم سے میری آنکھوں کے سامنے پانچ مہینے پہلے کا وقت  کسی فلم کی مانند  آنکھوں کے سامنے چلنے لگا  ہاں اس ہی جگہ  تو بیٹھتی تھی جماعت ہفتم

اب گزشتہ پانچ مہینے سے کورونا وائرس کے باعث اپنے گھر بیٹھی ہوئی ہے، طلبہ و طالبات کیا گھر بیٹھے ہمیں بھی گھر بیٹھنا پڑا، شروع شروع میں تو بڑا انوکھا سا احساس ہوا کہ ہم اسکول سے چھٹیاں کرتے تھے اب اسکول والوں نے خود ہی یہ کام سرانجام دے دیا بچے بھی خوش ہم بھی خوش، لیکن آج جب  اپنی جماعت میں جانا ہوا تو دل پرعجیب سا بوجھ بڑھ گیا وہ منظر آنکھوں کے سامنے گھوم گیا۔

 کیسے میں تختہ سیاہ کے برابر میں کھڑے ہو کر بلند آواز میں حاضری لیتا تھا اس کے بعد پڑھانا بچوں کی توجہ بھٹکنا کبھی ڈانٹ سے کبھی پیار سے اُن کو  اپنی جانب راغب کرنا  پیریڈ اوور ہونے پر بچوں کا باربار گھڑی کی جانب دیکھنا بریک میں سیڑھیوں پہ جمِ غفیر سب یاد آگیا، لیکن اب اسکول میں چھایا سناٹا میری روح میں اتر گیا دو مہینے بہت آرام کر لیا اوراب دل کیوں نہ بھرے خالی پیٹ تو اچھے اچھوں کو نچا دیتا ہے جب بچے ہی نہیں ہیں تو اسکول والوں کے نئے آرڈر کہ تنخواہ نہیں ملے گی گیدڑ کی موت آتی ہے تو وہ شہر کی طرف بھاگتا ہے وہ ہی حال ہمارا ہے کہ بس اب اسکول کھُل جانے چاہیے ہم بھی کیا کریں مفلسی انسان سے سب کروا لیتی ہے، لیکن ان سب  ذاتی مفادات  کے باوجود اب شدت سے دل چا رہا ہے  کہ صبح کے 8 بج رہے ہوں اور میں حاضری رجسٹر  پکڑے پکاروں ”حمزہ لٸیق، زرمین عابد“ اور کسی کونے سے آواز آئے

                             ”Yes Sir Present “

متعلقہ پوسٹس

 بچوں کے بغیر واقعی یہ کلاس بڑی ویران لگ رہی ہے ایسا لگ رہا ہے باغ تو ہے مالی بھی ہے لیکن پھول ناراض ہوگۓ، آسمان ہے لیکن بغیر تاروں کا بڑی اداسی ہے آپ سب کے بغیر میرا دل میری روح اور میرا اسکول ویران ہے آپ سب کے بغیر۔ آپ سب جلدی سے اپنے باغ میں آجاٸیں اور ہر ڈالی ہر غنچے پہ چہچہانا شروع کردیں یقین کریں کان ترس گٸے آپ سب کی آوازیں سننے کو اور کان پک گٸے کورونا کا رونا سن سن کر،

یہ میرے دل کی آواز تھی جو درد میں نے محسوس کیا میں نے لکھ دیا اگر کوئی والدین یہ تحریر پڑھ رہے ہیں  تو آپ کے نام ایک چھوٹا سا پیغام ہے۔”اسکول بند ہوئے ہیں مطلب اسکول بلڈنگز بند ہوئی ہیں لیکن اسکولنگ (لکھنے، پڑھنے،سمجھنے  اور سیکھنے کا عمل) بند نہیں ہوا ہے نہ آپ کے ہوتے ہوئے کبھی ہوگا سیکھنے سیکھانے کا عمل زندگی بھر جاری رہتا ہے آپ بھی اپنے نونہالوں کے لیے ایک بار پھر سے ڈٹ کر کھڑے ہوجائیں اور زیادہ سے زیادہ اپنے نونہالوں کی تعلیم و تربیت کو وقت دیں یہ سنہری موقع ہے ایک بار پھر سے اپنے بچوں کی تربیت اپنے ہاتھوں سے کرنے کا اس موقع کا ضرور فاٸدہ اٹھاٸیں“

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button