اردو کے عالمی شہرت یافتہ شاعر راحت اندوری کا 70 سال کی عمر میں انتقال

عالمی شہرت یافتہ شاعر راحت اندوری کا انتقال ہوگیا۔ راحت اندوری کورونا سے متاثر تھے۔ اس سے قبل آج ہی خبر آئی تھی کہ مشہور شاعر راحت اندوری کورونا وائرس کی زد میں آگئے ہیں۔ منگل کو انہوں نے خود اس کی خبر ٹوئٹر کے ذریعہ دی تھی۔ انہوں نے لکھا کہ:
کووڈ۔ 19 کے ابتدائی علامات دکھائی دینے پر میرا کورونا ٹیسٹ کیا گیا، جس کی رپورٹ مثبت آئی ہے۔ اندور کے آربندو اسپتال میں بھرتی ہوں۔ دعا کیجئے جلد ازجلد اس بیماری کو ہرا دوں۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ ان کی صحت کے بارے میں جانکاری کے لئے بار بار انہیں یا پھر ان کے کنبے کو فون نہ کریں، اس کی جانکاری ٹوئیٹر اور فیس بک کے توسط سے سبھی کو ملتی رہے گی۔
اطلاعات کے مطابق راحت اندوری کو شوگر اور دل کی بیماری تھی۔ حال ہی میں نمونیا کے سبب ان کے پھپھڑوں میں انفیکشن ہوگیا تھا۔ زرائع بتاتے ہیں کہ راحت اندوری 4 ماہ سے گھر سے نہیں نکلے تھے۔ وہ صرف طبی چیک اپ کے لئے ہی گھر سے باہر نکلتے تھے۔ انہیں چار پانچ دن سے بے چینی ہو رہی تھی۔ ڈاکٹروں کے مشورے پر پھپھڑوں کا ایکسرے کرایا گیا تو نمونیا کی تصدیق ہوئی تھی۔ اس کے بعد سیمپل جانچ کے لئے بھیجے گئے تھے، جس میں وہ کورونا پازیٹیو پائے گئے۔ راحت اندوری کے ڈاکٹر روی ڈوسی نے بتایا تھا کہ ان کے دونوں پھپھڑوں میں نمونیا تھا، سانس لینے میں تکلیف کے سبب آئی سی یو میں رکھا گیا تھا، ان کو تین بار دل کا دورہ بھی پڑا تھا۔
شاعر، نغمہ نگار جاوید اختر، ان کی اہلیہ شبانہ اعظمی، ان کے بیٹے فرحان اختر، جاوید جعفری اور ریچا چڈھا نے ٹویٹر پر ان کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہاراور انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ جاوید اختر نے لکھا:
"راحت صاحب کی رحلت معاصر اردو شاعری اور ہمارے معاشرے کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ حبیب جالب کی طرح ، وہ بھی ان شعراء کے تیزی سے غائب ہونے والے گروہ سے تھے جن میں کبھی بھی غلط کو غلط بولنے کی جرّت کی کمی نہیں تھی۔”
جاوید اختر
راحت اندوری کے انتقال پر پاکستانی اور انڈین سوشل میڈیا یوزرز کی اکثریت تعزیتی پیغامات اور ان کی شاعری کے ساتھ ساتھ مختلف مشاعروں و پروگراموں کے موقع پر بنائی جانے والی ان کی ویڈیوز اور تصاویر بھی شیئر کرتی رہی۔
پاکستانی ٹوئٹر صارف فخر کاکا خیل نے ان کے انتقال کی خبر دی تو ان کے مشہور اشعار بھی نقل کیے۔

’ساتھ چلنا ہے تو تلوار اٹھا میری طرح – مجھ سے بزدل کی حمایت نہیں ہونے والی‘ سمیت دیگر اشعار پڑھتے راحت اندوری کی ویڈیو کلپ شیئر کرنے والے لوک سبھا کے رکن اسد الدین اویسی نے ان کی مغفرت کے لیے دعا بھی کی۔
انہوں نے لکھا کہ راحت اندوری نے یہ اشعار جنوری میں انڈین شہریت کے متنازع قانون کے حوالے سے احتجاج کے موقع پر ایک پروگرام میں پڑھے تھے۔
پیام احمد نامی صارف نے تعریتی ٹویٹ کی تو ان کے مشہور اشعار میں سے ایک نقل کیا۔ ‘دو گز سہی مگر یہ میری ملکیت تو ہیں- اے موت تو نے مجھ کو زمیندار کر دیا‘۔

’آسمانوں کی طرف پھینک دیا ہے میں نے- چند مٹی کے چراغوں کو ستارہ کر کے‘ کہنے والے راحت اندوری اپنی شاعری میں کہیں بلند عزائم کا اظہار کرتے تو کہیں اپنی مجبوریوں کا اعتراف کرتے دکھائی دیتے ہیں۔’اجنبی خواہشیں سینے میں دبا بھی نہ سکوں – ایسے ضدی ہیں پرندے کہ اڑا بھی نہ سکوں۔‘
راحت اندوری نے اپنے کلام میں کہیں تعصب بھرے رویوں پر تنقید کی تو ’کسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے‘ جیسے جذبات کا اظہار کیا۔ اس کلام پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا تو ان کے چاہنے والے ’میں جب مر جاؤں تو میری الگ پہچان لکھ دینا‘ کی خواہش سامنے لے آئے جس میں وہ ہندوستان سے وابستگی کا منفرد اظہار کرتے ہیں۔
1950 میں انڈیا کے شہر اندور میں پیدا ہونے والے راحت اندوری کو ان کی شاعری کے سبب اس نام سے جانا جاتا تھا۔ ان کا اصل نام راحت قریشی تھا۔ اسلامیہ کریمیہ کالج، مدھیہ پردیش بھوج یونیورسٹی اور برکت اللہ یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے تعلیم پانے والے راحت اندوری اپنے پیچھے شاعری کی صورت میں خوبصورت یادیں چھوڑ گئے ہیں۔




