کالمز اور مضامین

گداگری ایک پیشہ

رسول اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ لیکن موجودہ صورتحال تو یکسر مختلف ہے، سوال کرنا اور ہاتھ پھیلانا پیشہ بن چکا ہے۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس پیشے سے منسلک ہے۔ پہلے تو مذہبی مقامات پر ہی بھکاری سوال کرتے نظر آتے تھے لیکن اب ہر گلی کوچے اور بازاروں میں ہاتھ پھیلائے فریاد کرتے نظر آرہے ہیں۔ ان میں اکثریت مسلمان ہیں اور یہ کس قدر شرم کی بات ہے کہ جس امت کو تلقین کی کہ دینے والا ہاتھ لینے والے سے بہتر ہے، وہ اس لعنت کو بطور پیشہ اختیار کیئے ہوئے ہیں.

ایشیائی انسانی حقوق کمیشن کی (AHRC) رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً دو کروڑ پچاس لاکھ لوگ بھیک مانگنے کے اس پیشے سے وابستہ ہیں۔ اس میں بچوں کی تعداد بارہ لاکھ کے قریب ہے۔ گداگری اختیار کرنے کے کئی اسباب و وجوہات ہیں۔ جن میں سب سے بڑھ کر وہ لوگ جو آسان اور بغیر محنت پیسہ کمانے کے شوقین ہیں۔ جو کام کو عار سمجھتے ہیں، اپنی سستی اور کاہلی کی وجہ سے کچھ کام نہیں کرتے۔ دوسری طرف بے روزگاری، معاشرتی ناانصافی اور میرٹ کا قتل بھی نوجوانوں کو مایوس ہو کر اس طرح کے اقدامات کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

کسی بھی ملک میں گداگری نہ تو بے روزگاری کو ظاہر کرتی ہے اور نہ ہی غربت کو، یہ تو حکمرانوں کی نااہلی اور پورے معاشرے کی اخلاقی زوال کو ظاہر کرتی ہے۔

ملکی اداراہ پاکستان سینٹر فار فلانتھراپی کے ایک سروے کے مطابق پاکستانی سالانہ تقریباً دو سو چالیس بیلین روپے خیرات کرتے ہیں۔ یہ رقم مختلف خیراتی ادارے اور تنظیمیں غریب اور مستحقین پر خرچ کرتی ہے۔ لیکن اس رقم کے خرچ کے باوجود گداگری اور بھیک مانگنے کا رجحان کم ہونے کے بجائے دن بہ دن بڑھ رہا ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ لوگ گداگری ضرورت اور مجبوری کے تحت نہیں بلکہ بطور پیشہ اختیار کیئے ہوئے ہیں۔

اسلامک فقہ اکیڈمی پاکستان کی فتٰوی کونسل نے اجتماعی فتوٰی جاری کیا ہے جس میں گداگری کا پیشہ غیر شرعی اور اخلاقی ناکامی قرار دیا گیا ہے۔

ہمیں بحثیت مسلمان گداگری کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیئے۔ حکومتی اداروں کی زمہ داری ہے کہ وہ بھیک مانگنے والے مافیا کے خلاف کاروائی کرے۔ خصوصاً ایسے گروہ جو بچوں اور خواتین کو جبراً اس کام پر مجبور کرتے ہیں۔ اہل علم کی زمہ داری ہے کہ وہ تعلیم اور اصلاح کے ذریعے لوگوں پر اس بات کو واضح کریں کہ دین اسلام کس قدر گداگری کی مذمت اور حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ ساتھ ہی تعلیمی اور تربیتی اداروں کے ذریعے عوام الناس میں گداگری کے پیشے کے خلاف آگاہی اور شعور پیدا کیا جائے۔ ایسے ادارے قائم کیئے جائیں کہ جہاں معاشرے میں موجود بے روزگار اور معذور افراد کے لیئے حلال اور جائز روزگار کمانے کے لیئے فن و ہنر سکھائے جائیں تاکہ یہ افراد معاشرے میں مفید اور کار آمد ثابت ہوں۔

یہ کام ہم سب کو مل کر کرنا ہوگا، تمام زمہ داری کسی ایک ادارے یا فرد پر ڈال دینے سے کام نہیں بنے گا۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو کار آمد اور مفید افراد ناپید اور ناکارہ افراد کی تعداد بڑھتی چلی جائے گی اور یہ کسی صورت ملک و قوم کے ساتھ بھلائی نہیں۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button