بھارت سمندر کے راستے فالس فلیگ آپریشن کرسکتا ہے، ہم مکمل الرٹ ہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی: ترجمان پاک فوج (ڈی جی آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بات کا خدشہ ہے کہ بھارت سمندر کے راستے کوئی فالس فلیگ آپریشن کرے گا، تاہم پاکستان مکمل طور پر الرٹ ہے۔
ترجمان پاک فوج نے پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات اور پاک افغان تعلقات سمیت متعدد امور پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے امریکا کو افغانستان پر حملے کے لیے اپنی سرزمین کے استعمال کی کوئی اجازت نہیں دی اور ایسی تمام خبریں افغان پروپیگنڈا ہیں۔
افغانستان سے دہشتگردی اور افغان فوجیوں کا ملوث ہونا
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے صحافیوں کے ساتھ ثبوت شیئر کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ پاکستان میں افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی میں افغان فوج کے سپاہی بھی ملوث پائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا، "تین چار ماہ میں دراندازی کے دوران جو دہشتگرد مارے گئے، ان میں 60 فیصد افغان باشندے شامل تھے… ان کارروائیوں میں افغان فوج کے سپاہی بھی مارے گئے۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے 6200 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیےگئے، جن میں 1667 ‘خارجی’ دہشت گرد مارے گئے، اور ان میں بھی 128 افغان باشندے تھے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلوچستان میں فعال دہشتگردوں (بی ایل اے) اور خوارجیوں کو بھی افغانستان میں ٹھکانے مہیا کیے گئے ہیں۔ انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ افغان طالبان ان ٹھکانوں کو سرحدی علاقوں سے رہائشی علاقوں میں منتقل کر رہے ہیں تاکہ دہشتگردوں کو ‘ہیومن شیلڈ’ (انسانی ڈھال) فراہم کی جا سکے۔
خیبر پختونخوا میں ‘نارکو اکنامی’
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کا ‘نارکو اکنامی’ (منشیات کی معیشت) سے گہرا تعلق ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وادی تیراہ میں ڈرونز اور سیکیورٹی فورسز کے ذریعے افیون کی فصل (پوست) تباہ کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ "خیبر پختونخوا میں 12 ہزار ایکڑ پر پوست کاشت کی گئی ہے… مقامی سیاستدان اور لوگ بھی اس میں ملوث ہیں۔ افغان طالبان اس لیے ان کو تحفظ دیتے ہیں کہ یہ پوست افغانستان جاتی ہے، جہاں اس سے آئس اور دیگر منشیات بنائی جاتی ہیں۔”
مذاکرات کی کوششیں اور سیاسی سوال
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ ان تمام مسائل کے باوجود پاکستان اب بھی افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات سے مسئلہ حل کرنا چاہتا ہے، جیسا کہ دوحہ اور استنبول میں طے پایا تھا۔
راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ اس بات کا خدشہ ہے کہ بھارت سمندر کے راستے کوئی فالس فلیگ آپریشن کرے گا، تاہم پاکستان مکمل طور پر الرٹ ہے اور ہمیں بھارت کی کارروائی سے متعلق علم ہے۔
سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے ملکی سلامتی، پاک افغان تعلقات، دہشتگردی کے خلاف آپریشنز، اور اندرونی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ دی۔
پاک-افغان تعلقات اور دہشتگردی کے ثبوت
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے پاک افغان تعلقات کی نوعیت پر بات کرتے ہوئے طالبان سے متعلق ثبوت سینئر صحافیوں کے ساتھ شیئر کیے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی میں افغان فوج کے سپاہی بھی ملوث ہیں۔
انہوں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا، "تین چار ماہ میں افغانستان سے دراندازی کے دوران جو دہشتگرد مارے گئے، ان میں 60 فیصد افغان باشندے شامل تھے۔ ان کارروائیوں میں افغان فوج کے سپاہی بھی مارے گئے۔”
ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے 6200 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیےگئے، جن کے دوران 1667 ‘خارجی’ دہشت گرد مارے گئے۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ ان ہلاک دہشت گردوں میں 128 افغان باشندے بھی تھے۔
بلوچستان اور دہشتگردوں کی ‘ہیومن شیلڈ’ حکمت عملی
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ صرف خیبر پختونخوا ہی نہیں، بلکہ "بلوچستان میں جو دہشتگرد ایکٹیو ہیں (بی ایل اے)، ان کو بھی افغانستان میں ٹھکانے مہیا کیے گئے ہیں۔”
انہوں نے ایک تشویشناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان، بی ایل اے اور خوارجیوں کے ٹھکانوں کو سرحدی علاقوں سے رہائشی علاقوں میں منتقل کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، "اس منتقلی کا مقصد دہشتگرد کو ‘ہیومن شیلڈ’ (انسانی ڈھال) فراہم کرنا ہے۔”
مذاکرات کی کوششیں اور دوحہ معاہدہ
ان تمام مسائل کے باوجود، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے واضح کیا کہ پاکستان اب بھی امن کا خواہاں ہے۔ "دوحہ میں طے ہوا تھا کہ لویا جرگے کا انعقاد کیا جائے گا۔ افغان طالبان کے ساتھ ہم اب بھی مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں۔ ہم امن چاہتے ہیں، مذاکرات سے یہ مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں۔”
انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ دوحہ اور استنبول مذاکرات میں ایک نکاتی ایجنڈے پر بات ہوئی تھی، جو "افغانستان سے سرحد پار دہشت گردی کا خاتمہ” تھا۔
خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کا ‘نارکو اکنامی’ سے تعلق
ڈی جی آئی ایس پی آر نے خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کی جڑوں کا سراغ لگاتے ہوئے کہا کہ اس کا ‘نارکو اکنامی’ (منشیات کی معیشت) سے گہرا تعلق ہے۔
انہوں نے بتایا، "خیبر پختونخوا میں 12 ہزار ایکڑ پر پوست کاشت کی گئی ہے، جس پر فی ایکڑ منافع 18 لاکھ سے 32 لاکھ روپے بتایا جاتا ہے۔” انہوں نے کہا کہ وادی تیراہ میں آپریشن کر کے افیون کی فصل تباہ کی گئی، جس کے لیے ڈرونز، اے این ایف اور ایف سی کا استعمال کیا گیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ "مقامی سیاستدان اور لوگ بھی پوست کی کاشت میں ملوث ہیں۔ افغان طالبان اس لیے ان کو تحفظ دیتے ہیں کہ یہ پوست افغانستان جاتی ہے، جہاں اس سے آئس اور دیگر منشیات بنائی جاتی ہیں۔”
اس کے علاوہ، انہوں نے بتایا کہ ایران سے ڈیزل کی اسمگلنگ کو تقریباً ختم کردیا گیا ہے۔
امریکی ڈرونز اور سیاسی سوالات پر واضح مؤقف
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے ان خبروں کو سختی سے مسترد کیا کہ پاکستان نے امریکا کو افغانستان پر حملوں کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا، "یہ افغانستان کا پروپیگنڈا ہے۔ امریکی ڈرونز کے ذریعے پاکستان سے افغانستان میں حملے کا الزام جھوٹا ہے۔ نہ ہمارا امریکا کے ساتھ ایسا کوئی معاہدہ ہے کہ امریکا پاکستان سے ڈرون کے ذریعے افغانستان میں کارروائی کرے۔”
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے متعلق ایک سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے محتاط جواب دیتے ہوئے کہا، "میں پبلک سرونٹ ہوں کسی پر الزام نہیں لگا سکتا، سہیل آفریدی خیبر پختونخوا کے چیف منسٹر ہیں، بس اتنا ہی کہوں گا۔”







