میٹرو پولیٹن

مریم نواز کی نیب دفتر آمد پر ہنگامہ آرائی، نیب کا مقدمہ درج کرانے کا فیصلہ

پاکستان میں احتساب کے ادارے قومی احتساب بیورو (نیب) نے لاہور دفتر کے باہر ہنگامی آرائی اور کارِ سرکار میں مداخلت پر مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کرانے کا اعلان کیا ہے جب کہ (ن) لیگی رہنماؤں نے ہنگامہ آرائی کی ذمہ داری حکومت اور نیب پر عائد کی ہے۔

نیب نے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کو سرکاری زمین کی غیر قانونی فروخت کے کیس میں بیان ریکارڈ کرانے کے لیے منگل کو طلب کیا تھا۔

مریم نواز قافلے کے ہمراہ نیب کے دفتر پہنچیں تو اس موقع پر لیگی کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی اور انہوں نے حکومت کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔

مشتعل کارکنان نے سڑک پر رکھی رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کی جس پر پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی۔

مسلم لیگ (ن) کے کارکنان اور پولیس کے درمیان پتھراؤ کا تبادلہ بھی ہوا۔ ہنگامہ آرائی کے دوران پولیس نے 30 سے زائد لیگی کارکنان کو بھی حراست میں لے لیا۔

مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ ہنگامہ آرائی کے دوران اُن کی بلٹ پروف گاڑی کا شیشہ بھی ٹوٹ گیا۔ اُن کے بقول اُنہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تھی۔

دوسری جانب نیب نے اپنے ایک اعلامیے میں کہا ہے کہ مریم نواز کو ذاتی حیثیت میں مؤقف لینے کے لیے طلب کیا تھا لیکن کارکنان کے ذریعے منظم انداز میں غنڈہ گردی کا مظاہرہ کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ نیب کی 20 سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ ایک آئینی ادارے کے ساتھ اس نوعیت کا برتاؤ روا رکھا گیا ہے جس میں نیب کی عمارت پر پتھراؤ کرتے ہوئے کھڑکیوں کے شیشے توڑے گئے اور عملے کو بھی زخمی کیا گیا۔

نیب اعلامیے کے مطابق ​اس صورتِ حال میں مریم نواز کی پیشی کو فوری طور پر منسوخ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ ​مسلم لیگ (ن) کے عہدیداروں اور دیگر عناصر کی جانب سے منظم انداز میں قانونی کارروائی میں مداخلت کی تحقیقات اور کارِ سرکار میں مداخلت پر مقدمہ درج کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مریم نواز کی پریس کانفرنس

مریم نواز نے پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اُن پر سستے داموں زمین خریدنے کا الزام لگایا گیا تھا جس کا جواب دینے کے لیے وہ نیب کے دفتر گئی تھیں۔

اُن کے بقول وہ ایک گھنٹے سے زائد وقت تک وہاں انتظار کرتی رہیں۔ اُن کے پاس نیب کے تمام سوالوں کے جوابات تھے لیکن ہنگامہ آرائی کے بعد نیب نے اُنہیں واپس جانے کے لیے کہا۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ نہتے اور پرامن کارکنوں پر پتھر برسائے گئے۔ کارکنوں کے سر پھٹنے کی وہ مذمت کرتی ہیں۔

مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ پولیس کی حراست میں موجود کارکنوں کی رہائی کے لیے پارٹی معاونت کرے گی۔

اپوزیشن کی طرف سے واقعے کی مذمّت

بلاول زرداری نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمّت کی ہے

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button