اسلام آباد میں کشمیر ہائی وے کا نام اب سری نگر ہائی وے

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسلام آباد میں کشمیر ہائی وے کا نام تبدیل کر کے سری نگر ہائی وے رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق وزیر خارجہ نے جمعے کو وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز اور معاون خصوصی معید یوسف کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق دنیا بھر میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کر رہے ہیں۔ سفارتی کوششیں مزید تیز کر دی جائیں گی۔ بیرون ملک پاکستانی سفارتی مشنز کو خصوص ہدایات جاری کی گئی ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ ’سفارتی مشنز کو کہا گیا کہ وہ لوکل تھنک ٹینک جائیں۔ کشمیر سے متعلق پاکستان کے موقف اور انڈیا کے زیر کنٹرول کشمیر کی صورتحال کو اجاگر کریں۔ 5 اگست کو تمام سفارتی مشنز میں کشمیر کے حوالے تصویری نمائشوں اور کار ریلیز کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔ کنیڈا میں خصوصی کار ریلی ہوگی۔ سوشل میڈیا کو بھی متحرک کیا جائے گا‘۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے صدر کو 9 مراسلے ارسال کر چکا ہوں۔ مسئلہ کشمیر پر چین، ترکی، ملائشیا سمیت دوست ملکوں نے پاکستان کے موقف کی تائید کی ہے۔
انہوں نے پھر واضح کیا ہے کہ کشمیر پر پوری قوم متحد ہے۔ کشمیر کے معا ملے پر سفارتی کوششیں مزید تیزکریں گے۔ کشمیریوں سے بھرپور اظہار یکجہتی کیلئے 5 اگست کو یوم استحصال منائیں گے۔ صبح 10 بجے ملک بھر اور پاکستان کے زیر کنٹرول کشمیر میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ’بڑی جمہوریت کا انڈین حلیہ بی جے پی نے بگاڑ دیا ہے۔ انڈیا آج عالمی سطح پر تنہا اور شائننگ انڈیا اب برننگ انڈیا میں تبدیل ہو چکا ہے‘۔
ایک سوال پر وزیر خارجہ نے کہا کہ’ نائن الیون کے بعد ترجیحات تبدیل ہوگئی تھیں۔ تحریک آزادی کا دہشت گردی سے موازنہ کیا جانے لگا۔ دنیا نے دیکھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کو بھی شکست دی۔ افغانستان میں مصالحتی عمل میں بھی ہمارا اہم کردار ہے‘۔
افغانستان سے متعلق وزیر خارجہ نے کہا کہ ’عید کے موقع پر افغانستان میں جنگ بندی خوش آئند ہے۔افغانستان میں جنگ بندی کے تناظر میں قیدیوں کی رہائی جلد ہوگی اور وہاں جلد امن قائم ہوگا‘۔
اس موقع پروفاقی وزیر اطلاعات ونشریات سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا کہ ’کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی بھرپور انداز سے کریں گے۔عمران خان کی قیادت میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے جو بھی اقدامات اٹھائے ہیں ان کا مقصد کشمیریوں کا مقدمہ لڑنا ہے‘۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی ڈاکٹرمعید یوسف نے کہا کہ ’5 اگست کو یوم استحصال کے طور پر منائیں گے۔ یہ واضح ہو جائے گا کہ پاکستان نے کشمیریوں کو کبھی نہیں بھولا بلکہ مزید آگے بڑھے ہیں‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ 5 اگست کو صبح ایک منٹ کی خاموشی کے بعد اسلام آباد میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی قیادت میں یکجہتی مارچ ہوگا۔ صوبائی دارالحکومتوں اورمظفرآباد میں بھی یکجہتی مارچ ہوگا جس کی قیادت صدر اور وزیراعظم آزاد کشمیر کریں گے۔







