پاکستان

‘یوم استحصال’ پر اسلام آباد میں ایک منٹ کی خاموشی اور واک

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں بھارت کے 5 اگست 2019ء کے یکطرفہ غیر قانونی اقدامات، کشمیریوں پر بھارتی ظلم و بربریت، استحصال اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھائی جا رہی ہے.

بھارت طویل عرصہ سے معصوم کشمیریوں کے خلاف مظالم اور استحصال کے باوجود ان کے حق خود ارادیت کے غیر متزلزل عزم کو دبانے میں ناکام رہا ہے، کشمیریوں کی جدوجہد آزادی منطقی انجام تک پہنچے گی اور وہ وقت دور نہیں جب آزادی کا سورج طلوع ہو گا، عالمی برادری اور او آئی سی کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم رکوانے، آزادی صحافت یقینی بنانے اور انٹرنیٹ کی بندش کو ختم کرانے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے، تمام سیاسی جماعتیں اور قوم مسئلہ کشمیر پر متحد ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یوم استحصال کے حوالہ سے ریلی کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ یوم استحصال کا مقصد 5 اگست 2019ء کے بھارت کے غیر قانونی یکطرفہ اقدام کے خلاف اقوام عالم کو پیغام پہنچانا ہے اور کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا ہے.

بھارت نے 5 اگست 2019ء کو 35 اے اور 370 کو آئین سے ختم کرکے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے ہر فورم پر کہا کہ کشمیر دوطرفہ مسئلہ ہے حالانکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ مسائل کے حل کیلئے 1973ء کا شملہ معاہدہ کیا گیا، بھارت اس معاہدہ کے تحت تنازعہ کشمیر کے حوالہ سے کبھی پاکستان کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار نہیں ہوا، بھارت حیلے بہانے کرکے مذاکرات سے راہ فرار اختیار کرتا ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ بھارت نے اسرائیل سے مظالم کرنا سیکھا ہے جس طرح اسرائیل غزہ میں آبادکاری کر رہا ہے اور فلسطینیوں پر ان کی اپنی زمین تنگ کر دی ہے اسی طرح بھارت مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، کشمیریوں پر پیلٹ گنز کا استعمال کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیا ہوا ہے، بھارتی تسلط کے خلاف پوری دنیا میں بھارت کے خلاف آواز اٹھائی جا رہی ہے، بھارت کی ہندوتوا سوچ نے خطہ کا امن خطرے میں ڈال دیا ہے، بھارت کے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تنازعات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اقتدار میں آنے کے فوری بعد بھارت کو امن کا پیغام دیا، بھارت نے پلوامہ واقعہ کو بہانہ بنا کر پاکستان پر حملہ کر دیا لیکن پاکستان نے پھر بھی امن کا راستہ اختیار کیا، بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کرنے کے بعد واپس بھارت بھجوایا۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری کب تک بھارت کا ظلم سہتے رہیں گے، کشمیر بھارت کا حصہ نہیں ہے، کشمیر آزاد ہو کر رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے طویل عرصہ سے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگا رکھا ہے، آزادی صحافت کا گلا گھونٹ رکھا ہے اور انٹرنیٹ، تعلیمی ادارے بند ہیں، کشمیری بھارت کے غلط اور غیر قانونی اقدامات ماننے کیلئے تیار نہیں ہیں، 9 لاکھ بھارتی فوج نے کشمیریوں کا محاصرہ کر رکھا ہے، بھارتی فوجیوں نے ایک بزرگ کو گولی مار کر اس کے نواسے کو سینے پر بٹھا دیا اور بھارتی فوجی اس پر پائوں رکھ کر کھڑا ہے، یہ افسوسناک تصویر بھارتی ظلم و بربریت کو بے نقاب کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو کشمیر کی اس صورتحال پر نوٹس لینا چاہئے، مقبوضہ کشمیر میں صحافیوں کو اسی طرح آزادی ہونی چاہئے جس طرح آزاد کشمیر میں میڈیا آزاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری مقبوضہ کشمیر تک عالمی میڈیا کو رسائی دے، بھارت جنیوا کنونشن اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے، عالمی برادری اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی معاہدوں پر عملدرآمد کیلئے بھارت پر دبائو ڈالے۔

انہوں نے کہا کہ او آئی سی کو بھی کشمیریوں کا ساتھ دینا چاہئے اور ان کی حمایت میں آواز اٹھانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں اور قوم مسئلہ کشمیر پر متحد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی غیر قانوی مقبوضہ کشمیر کے عوام نے اپنے حق خود ارادیت کے حصول کیلئے طویل جدوجہد کی ہے اور قربانیاں دی ہیں، کشمیریوں اور بھارت میں مسلمانوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری اکیلے نہیں ہیں، ہم ان کے ساتھ ہیں اور کھڑے رہیں گے اور کشمیر جلد آزاد ہو گا۔

قبل ازیں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے شاہراہ دستور پر یوم استحصال کے سلسلہ میں ریلی کی قیادت کی۔ ریلی میں چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی، سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز، وفاقی وزیر برائے امور کشمیر وگلگت بلتستان علی امین خان گنڈاپور، سینٹ میں قائد ایوان ڈاکٹر شہزاد وسیم، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف سمیت دیگر وزرا، ارکان پارلیمنٹ اور شہریوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button