4 نہیں، اب 22 صوبے! 24 کروڑ عوام کے لیے "انتظامی سرجری” کا سب سے بڑا پلان جاری

سندھ کی تقسیم یا انتظامی تنظیم نو؟ "سِرو، لاڑ اور کراچی” — نیا فارمولا جس نے ایوانوں میں ہلچل مچا دی
خصوصی رپورٹ: ہر صوبے کی 7 سینیٹ نشستیں، مکران اور لاہور برابر — "متوازن پاکستان” کا خواب کیسے پورا ہوگا؟
نومبر 2025 کے بدلتے ہوئے سیاسی حالات اور 27ویں ترمیم کے تناظر میں، جہاں عدالتی اصلاحات مکمل ہو چکی ہیں، وہیں ملک کے "انتظامی ڈھانچے” میں تبدیلی کی بازگشت شدت اختیار کر گئی ہے۔ اس بحث کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے، ‘ٹوڈیز پاکستان’ (Todayz Pakistan) نے اپنی تحقیقی دستاویز "متوازن وفاق” کے مکمل اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔
یہ رپورٹ محض قیاس آرائی نہیں بلکہ 2023 کی مردم شماری اور تازہ ترین معاشی اشاریوں پر مبنی ایک مکمل "ڈیٹا شیٹ” ہے، جو ثابت کرتی ہے کہ پاکستان کو 4 کے بجائے 22 انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنا نہ صرف ممکن ہے بلکہ معاشی بقا کے لیے ناگزیر ہے۔
1. نیا انتظامی نقشہ: 22 اکائیوں کا ماسٹر پلان
ٹوڈیز پاکستان کی تجویز کردہ تنظیم نو کا مقصد آبادی کے دباؤ کو کم کرنا ہے۔ اس پلان کے تحت ہر صوبہ انتظامی طور پر "قابلِ انتظام” (Manageable) ہو گا۔
جدول 1: مجوزہ 20 صوبوں اور وفاقی علاقوں کا خاکہ
| مجوزہ اکائی | مجوزہ دارالحکومت | شامل موجودہ علاقے (ڈویژن) | بنیادی شناخت و جواز |
| 1. پوٹھوہار | راولپنڈی | راولپنڈی ڈویژن | دفاعی مرکز و سطح مرتفع |
| 2. تھل | سرگودھا | سرگودھا، میانوالی | صحرائی و زرعی معدنیات |
| 3. چناب | گوجرانوالہ | گوجرانوالہ، گجرات | صنعتی "گولڈن ٹرائینگل” |
| 4. لاہور | لاہور | لاہور ڈویژن | ثقافتی و تجارتی مرکز |
| 5. ساندل بار | فیصل آباد | فیصل آباد ڈویژن | ٹیکسٹائل انڈسٹری |
| 6. ملتان | ملتان | ملتان، ساہیوال | سرائیکی ثقافتی مرکز |
| 7. بہاولپور | بہاولپور | بہاولپور ڈویژن | سابقہ ریاست کی بحالی |
| 8. ڈیرہ جات | ڈی جی خان | ڈی جی خان ڈویژن | کوہ سلیمان و زراعت |
| 9. ہزارہ | ایبٹ آباد | ہزارہ ڈویژن | سیاحت و ہندکو بیلٹ |
| 10. گندھارا | پشاور | پشاور، مردان | وسطی ایشیا کا دروازہ |
| 11. مالاکنڈ | سیدو شریف | مالاکنڈ ڈویژن | پہاڑی سیاحت و پن بجلی |
| 12. جنوبی KP | ڈی آئی خان | بنوں، کوہاٹ، ڈی آئی خان | جنوبی میدان و گیس |
| 13. قبائلستان | جمرود | سابقہ فاٹا اضلاع | قبائلی روایات و ترقی |
| 14. شمالی بلوچستان | کوئٹہ | کوئٹہ، ژوب، لورالائی | پشتون بیلٹ و فروٹ باسکٹ |
| 15. قلات | خضدار | قلات، رخشان | بلوچ روایات و معدنیات |
| 16. مکران | تربت | مکران ڈویژن | گوادر پورٹ و ساحل |
| 17. سِرو (سندھ) | سکھر | سکھر، لاڑکانہ | بالائی سندھ و زراعت |
| 18. لاڑ (سندھ) | حیدرآباد | حیدرآباد، میرپورخاص | زیریں سندھ و ڈیلٹا |
| 19. کراچی | کراچی | کراچی ڈویژن | کمرشل حب و بندرگاہ |
| 20. گلگت بلتستان | گلگت | تمام جی بی اضلاع | سیاحت و دفاع |
| 21. اسلام آباد | اسلام آباد | وفاقی دارالحکومت | فیڈرل کیپٹل ٹیریٹری |
| 22. آزاد کشمیر | مظفرآباد | تمام آزاد کشمیر کے اضلاع | ریاست کی حیثیت برقرار |
2. حقائق اور اعداد و شمار: تمام اکائیوں کا تقابلی جائزہ
ٹوڈیز پاکستان کی رپورٹ کا سب سے اہم حصہ یہ ڈیٹا پروفائل ہے، جو تمام مجوزہ اکائیوں کی آبادی، جی ڈی پی اور ٹیکس کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ ڈیٹا ثابت کرتا ہے کہ تقسیم کے بعد بھی تمام اکائیاں معاشی طور پر چلنے کے قابل ہیں۔
جدول 2: مجوزہ وفاقی اکائیوں کا مکمل ڈیٹا پروفائل (2023 مردم شماری)
(ماخذ: ٹوڈیز پاکستان ریسرچ پیپر )
| نمبر | مجوزہ اکائی | آبادی (2023) | رقبہ (کلومیٹر²) | شرح خواندگی | جی ڈی پی (ارب $) | ٹیکس شیئر (٪) |
| 1 | پوٹھوہار | 11.4 ملین | 22,254 | 77.2% | 20.3 | 16.4% |
| 2 | تھل | 9.6 ملین | 65,741 | 60.1% | 17.1 | 1.6% |
| 3 | چناب | 19.7 ملین | 26,352 | 76.1% | 35.1 | 5.3% |
| 4 | لاہور | 22.8 ملین | 11,727 | 73.6% | 40.6 | 33.1% |
| 5 | ساندل بار | 16.2 ملین | 17,918 | 66.2% | 28.9 | 1.9% |
| 6 | ملتان | 22.6 ملین | 24,830 | 58.0% | 40.3 | 2.5% |
| 7 | بہاولپور | 13.4 ملین | 45,588 | 54.1% | 23.9 | 1.7% |
| 8 | ڈیرہ جات | 12.9 ملین | 39,441 | 48.2% | 22.9 | 1.4% |
| 9 | ہزارہ | 6.2 ملین | 17,194 | 58.7% | 6.2 | 0.5% |
| 10 | گندھارا | 14.6 ملین | 12,309 | 52.9% | 14.6 | 1.2% |
| 11 | مالاکنڈ | 10.0 ملین | 31,162 | 47.5% | 9.9 | 0.8% |
| 12 | جنوبی KP | 10.1 ملین | 41,206 | 45.4% | 10.0 | 0.8% |
| 13 | قبائلستان | 5.7 ملین | 27,220 | 33.3% | 5.7 | 0.5% |
| 14 | شمالی بلوچستان | 7.2 ملین | 145,645 | 39.9% | 11.1 | 0.6% |
| 15 | قلات | 5.8 ملین | 253,397 | 39.4% | 8.9 | 0.5% |
| 16 | مکران | 1.9 ملین | 52,067 | 47.4% | 2.9 | 0.2% |
| 17 | سِرو (سندھ) | 13.1 ملین | 34,116 | 48.0% | 21.0 | 1.1% |
| 18 | لاڑ (سندھ) | 22.2 ملین | 71,375 | 48.4% | 35.6 | 1.8% |
| 19 | کراچی | 20.3 ملین | 3,527 | 77.2% | 32.6 | 35.0% |
| 20 | گلگت بلتستان | 1.5 ملین | 72,971 | 81.0% | 2.7 | 0.1% |
| 21 | اسلام آباد | 2.3 ملین | 906 | 84.0% | 12.8 | 8.0% |
| — | کل پاکستان | 243.2 ملین | 882,363 | 60.7% | 414.5 | 100% |
3. تجزیہ: یہ اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں؟
الف) آبادی کا توازن: موجودہ پنجاب (12 کروڑ) کے مقابلے میں، مجوزہ سب سے بڑا صوبہ لاہور (2.27 کروڑ) اور ملتان (2.26 کروڑ) ہیں۔ یہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ کوئی بھی صوبہ وفاق پر ہاوی نہ ہو سکے ۔
ب) معاشی خود مختاری: اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ چناب (35.1 ارب ڈالر) اور لاڑ (35.6 ارب ڈالر) جیسی نئی اکائیاں جی ڈی پی کے لحاظ سے انتہائی مضبوط ہوں گی۔ کراچی کو الگ کرنے سے پاکستان کی 35٪ ٹیکس آمدنی ایک شفاف نظام کے تحت قومی خزانے اور شہر کی ترقی پر خرچ ہو سکے گی ۔
ج) پسے ہوئے طبقات کی ترقی:
قبائلستان (شرح خواندگی 33.3٪) اور شمالی بلوچستان (39.9٪) کے الگ صوبے بننے سے وہاں خصوصی فنڈز مختص ہوں گے، جو موجودہ بڑے صوبائی سیٹ اپ میں نظر انداز ہو جاتے ہیں ۔
پارلیمنٹ میں نمائندگی کا نیا فارمولا
ٹوڈیز پاکستان کی رپورٹ کا سب سے انقلابی پہلو پاکستان کی پارلیمنٹ (مجلسِ شوریٰ) کی نئی تشکیل ہے۔ موجودہ نظام میں چھوٹے صوبوں کو اکثر یہ شکایت رہتی ہے کہ قومی اسمبلی میں پنجاب کی بھاری اکثریت کی وجہ سے ان کی آواز دب جاتی ہے۔
اس نئے ماڈل میں دو بنیادی اصول اپنائے گئے ہیں:
- قومی اسمبلی: آبادی کے تناسب سے نمائندگی، مگر چونکہ پنجاب تقسیم ہو چکا ہوگا، اس لیے کسی ایک بلاک کی اجارہ داری نہیں رہے گی۔
- سینیٹ: تمام وفاقی اکائیوں (چاہے وہ 2 کروڑ کی ہوں یا 20 لاکھ کی) کو مکمل مساوی نمائندگی ملے گی۔
ذیل میں دونوں ایوانوں کا تفصیلی ڈیٹا دیا گیا ہے:
جدول 3: مجوزہ قومی اسمبلی کی نئی تشکیل (336 نشستیں)
اصول: آبادی کی بنیاد پر نشستوں کی تقسیم (بشمول خواتین اور اقلیت)
| نمبر | مجوزہ وفاقی اکائی | جنرل نشستیں | خواتین (مخصوص) | کل نشستیں |
| 1 | پوٹھوہار | 13 | 3 | 16 |
| 2 | تھل | 11 | 2 | 13 |
| 3 | چناب | 22 | 5 | 27 |
| 4 | لاہور | 25 | 6 | 31 |
| 5 | ساندل بار | 18 | 4 | 22 |
| 6 | ملتان | 25 | 6 | 31 |
| 7 | بہاولپور | 15 | 3 | 18 |
| 8 | ڈیرہ جات | 14 | 3 | 17 |
| 9 | ہزارہ | 7 | 2 | 9 |
| 10 | گندھارا | 16 | 4 | 20 |
| 11 | مالاکنڈ | 11 | 2 | 13 |
| 12 | جنوبی خیبرپختونخوا | 11 | 2 | 13 |
| 13 | قبائلستان | 6 | 1 | 7 |
| 14 | شمالی بلوچستان | 8 | 2 | 10 |
| 15 | قلات | 6 | 1 | 7 |
| 16 | مکران | 2 | 1 | 3 |
| 17 | سِرو (بالائی سندھ) | 15 | 3 | 18 |
| 18 | لاڑ (زیریں سندھ) | 24 | 5 | 29 |
| 19 | کراچی | 22 | 5 | 27 |
| 20 | گلگت بلتستان | 2 | 0 | 2 |
| 21 | اسلام آباد (ICT) | 3 | 0 | 3 |
| — | اقلیت (مخصوص نشستیں) | — | — | 10 |
| کل | پاکستان | 276 | 60 | 336 |
جدول 4: مجوزہ سینیٹ (ایوانِ بالا) کی نئی تشکیل (140 نشستیں)
اصول: تمام 20 صوبوں کی مکمل برابری (7 نشستیں فی صوبہ)
یہاں سب سے بڑی تبدیلی یہ ہے کہ ہر صوبے کو 7 نشستیں دی گئی ہیں، چاہے اس کی آبادی کتنی ہی کیوں نہ ہو۔ اس سے وفاق میں حقیقی توازن آئے گا۔
| نشست کی قسم (کیٹیگری) | فی صوبہ مختص نشستیں | کل نشستیں (20 صوبے) |
| جنرل نشستیں | 4 | 80 |
| خواتین | 1 | 20 |
| ٹیکنوکریٹس / علماء | 1 | 20 |
| اقلیتیں | 1 | 20 |
| کل حجم | 7 | 140 |
اہم نکتہ: اس فارمولے کے تحت مکران (جس کی آبادی صرف 18 لاکھ ہے) کے پاس بھی سینیٹ میں اتنی ہی ووٹنگ پاور ہوگی جتنی لاہور (آبادی 2.2 کروڑ) یا کراچی (آبادی 2 کروڑ) کے پاس ہوگی۔ یہ بلوچستان اور چھوٹے علاقوں کے احساس محرومی کا سب سے مؤثر آئینی علاج ہے۔
پارلیمنٹ پر اثرات
- پنجاب کا "ویٹو” ختم: اب قومی اسمبلی میں کوئی بھی ایک صوبہ (جیسے موجودہ پنجاب) اکیلے حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہوگا بلکہ اسے دیگر اکائیوں (جیسے سرائیکی بیلٹ، پوٹھوہار یا سندھ کی اکائیوں) کے ساتھ اتحاد کرنا پڑے گا۔
- وفاقی توازن: سینیٹ کے 140 اراکین میں سے ہر علاقے کی آواز برابر ہوگی، جس سے قانون سازی میں چھوٹے صوبوں کا کردار کلیدی ہو جائے گا۔







