بین الاقوامی

انسانیت کا جنازہ: سراجیوو کی گلیوں میں ‘انسانی شکار’ کی ہولناک قیمت

نوے کی دہائی کی بوسنیائی جنگ کے وہ انکشافات جنھوں نے یورپ کو جھنجھوڑ دیا؛ کیا واقعی خواتین اور بچوں کو مارنے کے ‘الگ الگ ریٹ’ تھے؟

ہ نوے کی دہائی کا سیاہ ترین دور تھا۔ بوسنیا کا تاریخی شہر سراجیوو تاریخ کے طویل ترین اور بدترین محاصرے میں گھرا ہوا تھا۔ گولیاں، بم اور موت ہر گلی، ہر کوچے میں رقصاں تھی۔ شہری ایک بوند پانی اور روٹی کے ایک ٹکڑے کو ترس رہے تھے۔ لیکن کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ اس قیامت خیز منظر کے درمیان، کچھ لوگ محض ‘تفریح’ اور ‘سنسنی’ کے لیے انسانوں کا شکار کھیلنے آتے تھے؟

18 دسمبر 1994 کو بوسنیا ہرزیگوینا کے سرائیوو میں ایک آدمی اور ایک بچہ سنائپر فائر سے بچنے کے لیے بھاگ رہے ہیں۔ یورپیوں پر الزام ہے کہ وہ تفریح ​​کے لیے شہریوں کو مارنے کے لیے سفر کرتے ہیں جسے "سنائپر ٹورازم" کا نام دیا گیا ہے۔

یہ کوئی جنگی جنون کی کہانی نہیں، بلکہ یہ ان الزامات کی دل دہلا دینے والی داستان ہے جنھیں ‘سنائپر سفاری’ کا نام دیا گیا ہے۔ الزامات یہ ہیں کہ اٹلی، امریکہ، کینیڈا، روس اور جرمنی سمیت مختلف مغربی ممالک کے امیر زادے، ہتھیاروں کے شوقین، بھاری رقوم ادا کر کے سراجیوو کی پہاڑیوں پر سرب پوزیشنوں پر آتے تھے، اور وہاں سے نیچے محصور شہر میں اپنی زندگی بچانے کی کوشش کرتے نہتے شہریوں پر گولیاں چلاتے تھے۔

اطالوی شہر میلان میں اب پبلک پراسیکیوٹر کا دفتر ان ناقابلِ یقین دعوؤں کی تحقیقات کر رہا ہے۔ یہ کیس اطالوی صحافی اور ناول نگار ایزیو گوازینی کی شکایت پر کھولا گیا ہے، جن کا دعویٰ ہے کہ یہ ‘انتہائی امیر افراد’، جن میں سے کئی کا تعلق دائیں بازو کے انتہا پسند گروہوں سے تھا، نہتے شہریوں کو مارنے کا ‘تجربہ’ حاصل کرنے کے لیے لاکھوں ڈالر کے برابر رقم ادا کرتے تھے۔

درندگی کی قیمت: ‘بچے کو زخمی کرو تاکہ والدین باہر نکلیں’

ان انکشافات کا سب سے لرزہ خیز پہلو وہ مبینہ ‘ریٹ لسٹ’ ہے۔ بعض تحقیقاتی رپورٹس اور سلووینیا کے ڈائریکٹر میران زپانک کی ڈاکومنٹری ‘سراجیوو سفاری’ میں ایک گمنام گواہ کے مطابق، اس انسانی شکار کے لیے باقاعدہ قیمتیں مقرر تھیں۔ مرد کو مارنے کی قیمت الگ تھی، اور کسی خاتون کو نشانہ بنانے کی قیمت الگ۔

سب سے ناقابلِ یقین اور سفاکانہ دعویٰ یہ ہے کہ سب سے زیادہ قیمت ایک بچے کو مارنے کے لیے رکھی گئی تھی۔ کچھ ذرائع یہاں تک کہتے ہیں کہ بوڑھے شہریوں کو گولی مارنا ‘مفت’ تھا۔ اس سے بھی زیادہ ہولناک وہ طریقہ کار تھا جو مبینہ طور پر استعمال کیا جاتا۔ ایک رپورٹ کے مطابق، ‘سنائپر ٹورسٹ’ (جن میں میلان کے ایک کاسمیٹک سرجن کا بھی ذکر ہے) جان بوجھ کر پہلے ایک بچے کو گولی مار کر زخمی کرتے، تاکہ جب اس کے والدین اسے بچانے کے لیے اپنے ٹھکانے سے باہر نکلیں، تو وہ انھیں بھی آسانی سے اپنا نشانہ بنا سکیں۔

سفاری کے انتظامات اور ‘خاص شکاری’

صحافی گوازینی کے مطابق، یہ ‘ٹور’ باقاعدہ منظم کیے جاتے تھے۔ مبینہ طور پر یہ ‘سیاح’ اٹلی کے شہر ٹریسٹی سے بلغراد (سربیا) کا سفر کرتے، جہاں سے انھیں بوسنیائی سرب افواج کے اہلکار اپنی تحویل میں لے کر سراجیوو کے گرد پہاڑیوں پر مورچوں تک پہنچاتے تھے۔ یہ وہی مورچے تھے جہاں سے جنگی مجرم راڈووان کاراڈزک کی فوجیں شہر پر مسلسل گولہ باری کرتی تھیں۔

اگرچہ یہ ‘سنائپر ٹورزم’ زیادہ تر خفیہ رہا، لیکن ایک واقعہ کھلے عام پیش آیا۔ 1992 میں، روسی قوم پرست مصنف اور سیاست دان ایڈورڈ لیمونوف کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی جس میں وہ خود راڈووان کاراڈزک کے ساتھ سراجیوو کی پہاڑی پر بیٹھے ایک ہیوی مشین گن سے شہر پر فائرنگ کر رہے تھے۔ اگرچہ لیمونوف نے اس ‘تفریح’ کے لیے پیسے نہیں دیے تھے، لیکن اس واقعے نے یہ ثابت کر دیا کہ نہتے شہریوں پر گولی چلانے کو ایک ‘تماشے’ اور ‘اعزاز’ کے طور پر بھی دیکھا جا رہا تھا۔

یہ الزامات اگرچہ ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں—2007 میں ایک امریکی میرین نے بھی ہیگ کے ٹریبونل کو ایسے ‘ٹورسٹ شوٹرز’ کے بارے میں بتایا تھا—لیکن گوازینی کے شواہد، بشمول بوسنیا کے ایک سابق ملٹری انٹیلی جنس افسر کی گواہی، نے اس معاملے کو ایک نئی سنجیدگی دی ہے۔

تاہم، اس وقت سراجیوو میں تعینات کچھ برطانوی فوجیوں نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے کبھی اس ‘سنائپر ٹورازم’ کے بارے میں نہیں سنا اور ان کے خیال میں جگہ جگہ چیک پوسٹوں کی وجہ سے ایسا کرنا عملی طور پر بہت مشکل تھا۔

ایک ایسے وقت میں جب کچھ امیر مغربی ‘سیاح’ مبینہ طور پر پیسوں کے عوض انسانوں کا شکار کھیل رہے تھے، دنیا کا ایک اور حصہ اس ظلم کے خلاف آواز اٹھا رہا تھا اور عملی مدد فراہم کر رہا تھا۔ پاکستان نے بوسنیا کی جنگ کے دوران نہ صرف کھل کر سرب جارحیت کی مذمت کی بلکہ اقوام متحدہ کے امن مشن (UNPROFOR) میں سب سے بڑے شراکت داروں میں سے ایک تھا۔ 1994 میں، 3,000 پاکستانی فوجیوں پر مشتمل ایک دستہ بوسنیا میں تعینات کیا گیا جس نے ‘محفوظ علاقوں’ کے تحفظ اور نہتے شہریوں تک انسانی امداد پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

اس وقت کی پاکستانی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے خود 1994 میں محصور سراجیوو کا دورہ کر کے بوسنیائی عوام سے اظہار یکجہتی کیا، جبکہ صدر فاروق لغاری نے اقوام متحدہ کے غیر منصفانہ اسلحہ پابندی کو ‘غیر قانونی’ قرار دیا۔ پاکستانی امن دستوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر مقامی آبادی کی جو خدمت کی، اسے آج بھی بوسنیا میں احترام کی نگاہ سے یاد کیا جاتا ہے۔

ایک نہ ختم ہونے والا درد

یہ تحقیقات صرف چند مجرموں کو کٹہرے میں لانے کے لیے نہیں، بلکہ یہ انسانیت کے چہرے پر لگے ایک گہرے داغ کو سمجھنے کی کوشش ہے۔ اگر یہ الزامات سچ ثابت ہوتے ہیں، تو یہ تاریخ کا وہ سیاہ باب ہو گا جو بتائے گا کہ انسان، انسان کے لیے کتنا بے رحم اور سفاک ہو سکتا ہے۔

سراجیوو کے وہ معصوم لوگ جو جنگ میں مارے گئے، کیا وہ واقعی کسی کی بیمار ‘سیاحت’ کا ایندھن بھی بنے تھے؟ اس سوال کا جواب شاید کبھی مکمل طور پر نہ مل سکے، لیکن اس کی بازگشت انسانی ضمیر کو ہمیشہ جھنجھوڑتی رہے گی۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button